خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1006
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1006 خطبہ جمعہ ۲۷ / دسمبر ۱۹۹۱ء ایسا احسان ہے جو آپ عمر بھر اور نسلاً بعد نسل بھی اتارنے کی کوشش کرتے رہیں تو دعا کے سوا اُتر نہیں سکتا۔مگر ظاہری طور پر اگر یہ احسان اُتارنا چاہتے ہیں تو ایک صورت یہ ہے کہ آپ ایک ایسی تحریک میں شامل ہو جائیں جس کا خرچ آپ کے ملک میں نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان اور پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہوا کرے گا چنانچہ اس طرح آپ اظہار تشکر بھی کر سکتے ہیں اور آپ کے دل احسان کے بوجھ سے ہلکا محسوس کریں گے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس تحریک پر بہت ہی شاندار لبیک کہا گیا اور بڑے بڑے ممالک نے جن میں یورپ کے ممالک میں سے جرمنی ہے اور UNITED KINGDOM ہے اور دوسرے مغرب کے ممالک میں سے کینیڈا ہے اور امریکہ ہے اسی طرح انڈونیشیا اور دیگر مشرقی ممالک نے بھی بڑی ہی خوشدلی کے ساتھ اور بشاشت کے ساتھ لبیک کہا۔اور اس کے نتیجہ میں ہماری بہت سی مالی وقتیں دور ہو گئیں۔اس وقت صورت حال یہ ہے کہ دیگر ممالک تو مسلسل قربانی میں آگے بڑھ رہے ہیں اور آغاز میں جتنے انہوں نے وعدے کیے تھے اور جتنی ادا ئیگی کی تھی اس کے مقابل پر اب انکے وعدے اور ادا ئیگی کئی گنا بڑھ چکی ہے۔لیکن ہندوستان کی وقف جدید کا وہی حال ہے جس رفتار سے پہلے قدم اٹھا رہی تھی بعینہ اسی رفتار سے اب قدم اٹھا رہی ہے۔شاید اس میں کچھ قصور بیرونی قربانی کرنے والوں کا ان معنوں میں ہو کہ یہاں کے کارکنوں نے سمجھ لیا کہ خدا کے فضل سے پیسے تو باہر سے آہی جانے ہیں، ضرورتیں تو پوری ہو ہی جانی ہیں ہمیں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ کوشش کریں اور مصیبت میں مبتلا ہوں اور چٹھیاں لکھیں اور جماعتوں کو احساس دلائیں کہ تم نے اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے۔بعض دفعہ بیرونی مدد اس قسم کی کمزوری بھی پیدا کر دیا کرتی ہے۔تو ایک بات تو میں آج آپ سے یہ کہنی چاہتا ہوں کہ دین کی خاطر قربانی کرنا اللہ تعالیٰ کے فضل سے کسی پر ذاتی احسان نہیں ہے۔یہ نہیں میں کہہ رہا کہ واقعہ آپ پر وہ قومیں احسان کر رہی ہیں۔یہ لفظ تو محاورے کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔عملاً جو بھی چندہ دیتا ہے اللہ دیتا ہے۔اللہ کی رضا کی خاطر دیتا ہے اس لئے احسان کے مضمون کو کچھ دیر بھول جائے۔لیکن انسانی غیرت اور حمیت کے مضمون کو ضرور یا درکھیں۔ایک مومن حتی المقدور ضرور یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو۔ایک مومن حتی المقدور ضرور یہ کوشش کرتا ہے کہ اپنی اور اپنی علاقائی ضرورتوں کو وہ خود پورا کر سکے اور ہر معنی میں یعنی لطیف تر معنی بھی فیض رساں ہو فیض قبول کرنے والا نہ ہو۔