خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 1005
خطبات طاہر جلد ۱۰ 1005 خطبہ جمعہ ۲۷ دسمبر ۱۹۹۱ء پھل لگے گا۔اگر چہ ہماری خواہش کے مطالبے اور ہیں اور صبر کے تقاضے اور ہیں لیکن لازماً آخر صبر کے تقاضے جیت ہی جاتے ہیں۔ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا ایک سال کا انتظار تو ہمارے لئے بہر حال مقدر ہے۔اس لئے پہلے سال کے بعد انشاء اللہ پھر ہر سال یا اگر چھوٹی کلاس ہو تو تین تین۔چھ چھ مہینے کے بعد معلمین کے نئے وفود تیار ہوتے چلے جائیں گے۔نئے گروہ تیار ہوں گے جن کو ہم حسب حالات اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہندوستان کے شمال وجنوب میں پھیلا سکتے ہیں۔وقف جدید کی تحریک کا اس طر ز تبلیغ سے گہرا اور اٹوٹ رشتہ ہے۔حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں جوطرز تبلیغ تھی یا طر ز تربیت تھی یہ وہی ہے جو میں آپ کے سامنے بیان کر رہا ہوں۔آپ کے پیش نظر کوئی بہت زیادہ رسمی سخت مزاج کی تنظیم نہیں تھی۔ایسی تنظیم تھی جس میں لوچ ہو ، جس میں تقاضوں کے مطابق ڈھلنے کی صلاحیت ہو، اونچ نیچ کیلئے اس میں گنجائش موجود ہو۔پس ہندوستان کی وقف جدید کو بھی اسی نہج پر کام کرنا ہو گا اور اللہ کے فضل سے کسی حد تک یہ کام ہو رہا ہے۔لیکن جہاں تک مقامی ضروریات کا تعلق ہے پانچ لاکھ کی رقم تو کوئی حیثیت ہی نہیں رکھتی۔چنانچہ چند سال پہلے میں نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے پہلی مرتبہ وقف جدید کے چندہ کے نظام کو بین الاقوامی یا کل عالمی بنا دیا۔پہلے وقف جدید کے متعلق یہ خیال تھا کہ برصغیر ہندوپاکستان کی حدود میں محدود ہے اور صرف پاکستان ہی سے چندہ وصول کیا جائے یا صرف ہندوستان ہی سے چندہ وصول کیا جائے۔اور اس میں ایک اضافہ بنگلہ دیش کا بھی کر لیں۔ان دنوں میں وہ چونکہ مشرقی پاکستان تھا اس لئے اس وقت دو ہی ملک پیش نظر تھے مگر بنگلہ دیش بھی اس گروہ میں شامل ہے چند سال پہلے خصوصیت سے ہندوستان کی ضروریات کو مہِ نظر رکھتے ہوئے میں نے وقف جدید کے چندہ کی عالمی تحریک کی اور تمام دنیا کی جماعتوں سے یہ درخواست کی کہ پاکستان اور ہندوستان کی سرزمین وہ ہے جہاں سے کبھی خالصہ آپ تک اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے وہاں کے باشندگان مسلسل قربانی کیا کرتے تھے اور کبھی کسی ذہن میں یا ذہن کے کسی گوشے میں بھی یہ خیال نہیں گزرا کہ چندہ تو ہم اکٹھا کر رہے ہیں لیکن خرچ دوسرے ملکوں میں ہو رہا ہے۔ہندوستان اور پاکستان کے باشندوں نے ایک لمبے عرصہ تک کلیۃ اللہ کی خاطر اور تمام نفسانی اغراض سے پاک ہو کر تمام دنیا میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لئے مالی قربانیاں بھی دیں اور جانی قربانیاں بھی دیں۔چنانچہ میں نے باقی ملکوں کو سمجھایا کہ یہ تو ایک