خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 6
خطبات طاہر جلد ۱۰ 6 خطبہ جمعہ ۴ جنوری ۱۹۹۱ء سے زیادہ کامیابی راجستھان کے علاقے میں ہوئی ہے اور یہ وہی علاقہ ہے جو ہندوستان کا تھر سمجھ لیں یعنی سرحد کے اُس طرف اگر سندھ کا شھر کا علاقہ ہے تو اس کے پر لی طرف راجستھان کا علاقہ شروع ہو جاتا ہے اور وہاں بھی معلمین خدا کے فضل سے بڑی ہمت سے کام کر رہے ہیں بلکہ بعض لحاظ سے نامساعد حالات زیادہ ہیں کیونکہ وہاں خطرات بھی درپیش ہیں۔یہاں کام کرتے ہوئے ہندوؤں سے احمدیوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا لیکن وہاں چونکہ ہندومسلم مناقشتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں اور بعض دفعہ بہت بڑھ جاتی ہیں یعنی ہندو اور مسلمانوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے لئے باقاعدہ منظم کوششیں ہوتی ہیں۔ملک میں کہیں فساد ہو اس کا اثر ہر دوسری جگہ پر پڑتا ہے۔تو راجستھان کے علاقے میں بھی کیونکہ ہندو اکثریت میں ہیں وہاں مسلمانوں کے لئے یہ بھی ایک بڑی مشکل ہے کہ ہندوستان میں کسی جگہ فساد ہو راجستھان پر اثر پڑ جاتا ہے اور احمدی مبلغین پر بھی اثر پڑتا ہے نئی جماعتیں قائم ہورہی ہیں ان پر بھی اثر پڑتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی نڈر مبلغین ہیں اور اُن کے حُسنِ خلق کا اثر بھی بہت ہے چنانچہ ابھی تازہ فسادات کے بعد کی جور پوٹیں ملی ہیں اُن سے یہ معلوم کر کے اللہ تعالیٰ کا بہت ہی شکر ادا کرنے توفیق ملی کہ کسی احمدی کا نقصان نہیں ہوا بلکہ بعض فساد زدہ علاقوں کے ہندوؤں نے احمدیوں کی تائید کی اور علاقے کے مسلمان اس وجہ سے بچ گئے کہ احمدیوں نے اسلام کی جو صورت وہاں پیش کی تھی۔اس میں کوئی قابل نفرت بات نہیں تھی بلکہ دل موہ لینے والی باتیں تھیں تو وہاں بھی خدا کے فضل سے اب وقف جدید کو اچھی خدمت کی توفیق مل رہی ہے اور اس کے علاوہ دیہات میں جو روز مرہ تربیت کا کام ہے وہ بہت ہی اہمیت رکھتا ہے اور عموماً اس کی طرف نظر نہ رہنے کے نتیجے میں بڑے گہرے نقصان قوم کو پہنچ جایا کرتے ہیں۔ہم نے جب ہوش سنبھالی تو یہی دیکھا کہ دیہاتی احمدی جماعتیں بڑی مخلص ہیں۔قربانی کے میدانوں میں بھی آگے اور بہت ہی جوش کے ساتھ ہر پروگرام میں حصہ لینے والی اور جلسوں میں سب سے زیادہ بلند آواز میں نعرہ ہائے تکبیر بلند کرنے والی جماعتیں۔اس زمانے میں یہ خیال بھی نہیں ہوا کہ اندورنی لحاظ سے علمی تربیت کی ان لوگوں میں کمی ہوگی اور یہ کمی پھر آئندہ نسلوں پر اثر انداز ہو گی۔چنانچہ ایک لمبے عرصے تک یہی تصور تھا کہ شہری جماعتوں کے مقابل پر دیہاتی جماعتیں ہر لحاظ سے زیادہ بہتر اور مخلص ہیں لیکن جب حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف جدید کی تحریک جاری فرمائی اور یہ نصیحت کی کہ دیہاتی علاقوں