خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 31 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 31

خطبات طاہر جلد اول 31 خطبہ جمعہ ۲ جولائی ۱۹۸۲ء تمام خلفاء کے الگ الگ رنگ ( خطبه جمعه فرموده ۲ / جولائی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ پڑھیں : وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنْسَانِ أَعْرَضَ وَنَا بِجَانِبِهِ ۚ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّكَانَ يَوْسًا قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اهْدَى سَبِيلًا في سرائيل: ۱۳۸۵ پھر فرمایا: یہ آیات کریمہ جو میں نے آپ کے سامنے تلاوت کی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جب بھی ہم انسان پر انعام فرماتے ہیں تو اس کی بدقسمتی دیکھو، اس کی محرومی ملاحظہ کرو کہ وہ ہمیشہ اجتناب کرتا ہے۔اعراض کرتا ہے، منہ پھیر لیتا ہے اور اس کی کوشش یہی رہتی ہے کہ مجھ تک میرے رب کا انعام نہ پہنچے۔وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جب اس کے نتیجے میں اسے شدید مشکلات گھیر لیتی ہیں اور مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے وَإِذَا مَسَّهُ الشَّر تو پھر وہ مایوس ہو جاتا ہے۔تو کہہ دے کہ ہر شخص اپنی شاکلہ کے مطابق عمل کیا کرتا ہے۔اس کے مزاج ، اس کے اخلاق ، اس کی طرز فکر ، اس کے طرز عمل کا ایک سانچہ ہے۔اس کا ہر عمل اس سانچے میں ڈھلتا ہے اور اس کے مطابق اس سے اعمال ظہور پذیر ہوتے ہیں۔تو ان سے کہہ دے کہ تیرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کا طرز عمل ہدایت کے زیادہ قریب ہے۔