خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 281 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 281

خطبات طاہر جلد اول 281 خطبه جمعه ۱۹/ نومبر ۱۹۸۲ء ہاں عبادت ایک دائمی ترقی کا پیغام ہے ایک ایسی ترقی جس کا کوئی منتہا نہیں۔کیونکہ عبادت میں جس ذات کو پیش نظر رکھ کر اُس کی تعلیم دی گئی اس ذات کی کوئی حد نہیں۔نہ کمیت میں اسکی حد بندی کی جاسکتی ہے ، نہ کیفیت میں ، نہ وقت میں اور نہ ہی شش جہات کے لحاظ سے۔تو ایک ایسی ذات جسکی کوئی حد نہ ہو، اس کی پیروی کی تعلیم دینا، لا متناہی ترقیات کی طرف دعوت دینا ہے۔اور اس پہلو سے بھی عبادت بندے ہی کو فائدہ پہنچاتی ہے۔پھر ایک اور پہلو سے بھی عبادت بندوں ہی کے فائدہ کے لئے ہے کہ جب انسان اپنے رب کا رنگ اختیار کرتا ہے تو نتیجہ اس کے بندوں پر زیادہ مہربان ہوتا چلا جاتا ہے۔اور ان کے حقوق پہلے سے بھی زیادہ بڑھ کر ادا کرنے لگتا ہے۔آنحضرت علہ جو کامل اسوہ بنائے گئے وہ اسی طریق پر کامل اُسوہ ٹھہرے کہ اپنے رب کی تمام صفات کو اپنی ذات کے ہر پہلو میں اس طرح جذب کر لیا کہ گویا آپ خدا نما وجود بن گئے۔ایک ایسا خدا نما وجود جس کا تصور بھی پہلے انسان کیلئے ممکن نہیں تھا۔تب وہ بندوں پر مہربان ہوئے جیسا کہ فرمایا: بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمُ (التو به ۱۳۸) اور سارے عالمین کے لئے رحمت بن گئے جیسے فرمایا: وَمَا أَرْسَلْنَكَ إِلَّا رَحْمَةً لِلْعَلَمِينَ (انبياء ۱۸) چنانچہ جب بندے کو خدا کی صفات عطا ہو جائیں تو پھر خدا تعالیٰ اس کے ہاتھ میں بندوں کی تقدیر دے دیا کرتا ہے۔اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ کوئی نبی خدا کی صفت ملِكِ يَوْمِ الدِّینِ کا اس طرح مظہر نہیں بنا ان معنوں میں کہ خدا نے اس کو مالکیت عطا فرمائی ہو، جس طرح حضرت محمد مصطفی ﷺ۔کیونکہ آپ کامل طور پر اسی طرح خدا کے ہو گئے کہ خدا کی مخلوق پھر کامل طور پر آپ کے سپر د کر دی گئی۔اور ان معنوں میں آپ مالک یوم الدین بنائے گئے۔(الحکم 10 اگست 1903 ص 20) پھر اسی مضمون کو جب آگے چلا کر دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ قیامت کے دن شفاعت کرنے والا وجود حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ہے اور اس لیے آپ کو شفاعت کے لائق ٹھہرایا گیا کہ اس دنیا میں آپ مالک بننے کے اہل قرار دیئے گئے تب اس دنیا میں بھی آپ کو شفاعت کا حق دیا