خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 24 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 24

خطبات طاہر جلد اول 24 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء رب کے حضور گریہ وزاری کرتے ہوئے ہمیشہ یہ دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے تقویٰ نصیب فرمائے۔ایسا تقویٰ جو اس کی نظر میں قبولیت اور اس کی درگاہ میں مقبولیت کے قابل ہو اور میری ہمیشہ یہ دعا ر ہے گی کہ مجھے بھی اور آپ کو بھی اللہ تعالیٰ تقوی عطا فرمائے کیونکہ بحیثیت آپ کے امام کے اور بحیثیت خلیفہ اُسیح کے مجھے جتنی زیادہ متقیوں کی جماعت نصیب ہوگی اتنی ہی زیادہ ہم اسلام کی عظیم الشان خدمت کر سکیں گے۔احمدیت کو اتنی ہی زیادہ قوت نصیب ہوگی اتنی ہی زیادہ احمدیت کو عظمت نصیب ہوگی۔محض اعداد کی کوئی بھی حقیقت نہیں ہے۔روحانی دنیا میں اعداد کے ساتھ فضیلتیں نہیں ناپی جاتیں۔جب آنحضرت ﷺ کی بعثت ہوئی تو ساری دنیا کی کل قیمت ایک وجود یعنی حضرت محمد مصطفی ﷺ کے مقابل پر آپ کی جوتی کی خاک کے برابر بھی نہیں تھی۔وہ ایک ہی وجود تھا جو اس دنیا میں خدا کا قائمقام تھا اور وہ ایک ہی وجود تھا جس کی خاطر ساری کائنات کو قربان کر دیا جاتا تو عرش الہی میں ایک ذرا سا بھی ارتعاش پیدا نہ ہوتا۔پس حقیقت میں خدا تعالیٰ کے ہاں قیمت اقدار کی ہوا کرتی ہے، تعداد کی کوئی قیمت نہیں ہوتی اور وہی تعداد باعث برکت ہوتی ہے جو اعلیٰ اقدار کے نتیجہ میں خود بخو دنصیب ہو جایا کرتی ہے۔جب کسی قوم میں زندہ رہنے کے قابل قدریں پیدا ہو جا ئیں ، جب تقویٰ کا معیار بلند ہو جائے تو اتنی عظیم الشان مقناطیسی قوت پیدا ہو جاتی ہے کہ باہر کی دنیا کی تعداد خود بخود کھنچی چلی آتی ہے اور تقویٰ والوں کے ساتھ آ کر ہم آہنگ ہونے لگتی ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی تقدیر ظاہر ہوتی ہے اور عددی غلبہ بھی نصیب ہو جاتا ہے۔مگر اس عددی غلبہ کی قیمت ، اس کی حیثیت محض یہ ہے کہ اگر یہ تقویٰ کے تابع نصیب ہو تو قدر کے لائق ہے اگر یہ تقویٰ کے تابع نصیب نہ ہوتو اس کی کوئی حیثیت باقی نہیں رہتی۔پس ہمیں دوسری دعا یہ بھی کرتے رہنا چاہئے کہ اللہ کی نظر میں ہم متقیوں کی وہ جماعت ہوں جن کے مقابل پر اللہ کی نظر میں دنیا کی ہر دوسری چیز قربان کئے جانے کے لائق ہو اور دنیا میں یہ ایک عظیم الشان معجزہ رونما ہو کہ متقیوں کی یہ جماعت جو ساری کائنات کی سردار مقرر کی گئی ہے، یہ ساری دنیا کی خادم بن کر ان پر نچھاور ہوتے ہوئے ، ان کے لئے قربانیاں کرتے ہوئے ، ان کی بھلائی کیلئے دعائیں کرتے ہوئے ان کو اپنی ذات میں ضم کرتی چلی جائے۔