خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 186
خطبات طاہر جلد اول 186 خطبه جمعه ۱/۸ کتوبر ۱۹۸۲ء کو قبول فرمائے گا۔اب میں بعض متفرق باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں اور آج میں نے گفتگو کرنے کے لئے مختلف نکات نوٹ کئے ہیں۔سب سے پہلے تو میں ان واقفین زندگی کے بارہ میں کچھ کہوں گا جو مختلف پہلوؤں سے یہاں خدمات بجالا رہے ہیں۔وہ لوگ جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی زندگیاں پیش کر دی ہیں انہیں معاشرے کی طرف سے خاص مقام اور تعاون ملنا چاہئے۔وہ اپنے مقصد میں اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک سارا معاشرہ ،ساری جماعت اس مقصد کے حصول کے لئے ان کی مدد نہ کرے۔نہ صرف یہ بلکہ انہیں ایک خاص عزت اور مقام ملنا چاہئے۔مگر میں نے بڑے دکھ سے یہ بات مشاہدہ کی ہے کہ بعض جماعتوں میں احباب مربیان کی کماحقہ عزت نہیں کرتے۔بعض اوقات وہ ان کے کام پر اتنی شدت سے تنقید کرتے ہیں جو ان کے جگر چیر دیتی ہے۔اور وہ اسکی بہت تکلیف محسوس کرتے ہیں۔مگر انہوں نے کہیں بھی اسکاذ کر نہیں کیا۔لوگوں میں فرق ہوتا ہے۔وہ مختلف قسم کے تعلیمی اداروں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔اگر کوئی اعلیٰ درجہ کی انگریزی زبان میں خطاب نہیں کر سکتا تو یہ اسکا قصور نہیں۔یہ اس نظام کا قصور ہوسکتا ہے جس میں انہوں نے پرورش پائی۔یا اس سکول کا قصور ہو سکتا ہے جس میں انہوں نے تعلیم حاصل کی بہت سے ایسے دیگر پہلو ہو سکتے ہیں جن کا میں یہاں جائزہ نہیں لے سکتا۔مگر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اگر کسی شخص نے اپنی ساری زندگی خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کر دی ہے تو اسے عزت اور محبت ملنی چاہئے۔اور ہر شعبہ میں اسے تعاون ملنا چاہئے۔مجھے علم ہے کہ بعض جگہ یہاں تو نہیں مگر دنیا کے ہر حصہ میں بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ اب مربی ان کا ذاتی ملازم بن گیا ہے۔یہ تکلیف دہ منظر ہمیں اسلامی دنیا میں عموماً اور گاؤں کی مسجد کے ملا کے ساتھ پنجاب میں خصوصاً یہ سلوک نظر آتا ہے وہاں ملا زمیندار کا ذاتی ملازم خیال کیا جاتا ہے۔محض اس لیے کہ زمیندار اس کے کھانے پینے کا بندو بست کرتا ہے۔یہ الگ بحث ہے کہ کھانا پینا کس معیار کا ہوتا ہے۔مگر چونکہ ملا ان کے صدقات پر زندگی بسر کرتا ہے اس لئے اس سے نامناسب رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔اسکی روزانہ بے عزتی کی جاتی ہے۔اس قسم کے معاشرے پر وہ صرف نفرت کی تعلیم دے کر