خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 158

خطبات طاہر جلد اول 158 خطبه جمعه ۲۴ ستمبر ۱۹۸۲ء لفظ دجال کے پورے معنی ادا ہوتے ہیں یا نہیں۔مگر میرا خیال ہے کہ یہ لفظ دجال کے مکمل معنی ادا نہیں کرتا۔کیونکہ یہ اپنے معنی کے لحاظ سے اینٹی کرائسٹ کی نسبت زیادہ گہرے مطالب کا حامل ہے۔اب یہ ایک عظیم الشان پیشگوئی ہے جو بڑی تفصیل سے بیان ہوئی ہے اور مستقبل کے بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے۔اگر میں سارے پہلو بیان کرنے لگوں تو مجھے بڑا وقت درکار ہوگا۔چنانچہ میں خود کو حضرت رسول کریم ﷺ کی دجال کے بارہ میں بیان کردہ خصوصیات میں سے صرف ایک تک ہی محمد و درکھوں گا۔آپ نے فرمایا کہ وہ اعور یعنی کا نا ہوگا۔اس کی ایک آنکھ کے حوالہ سے آپ نے مزید فرمایا کہ اسکی دائیں آنکھ اندھی ہوگی۔اتنی اندھی کہ اس میں روشنی کا کوئی شائبہ تک نہیں ہو گا یعنی بالکل نابینا۔جبکہ دوسری طرف دوسری آنکھ گہری بصارت رکھنے والی اور اتنی شفاف اور نمایاں ہوگی کہ وہ زمین کی گہرائیوں میں جھانک سکے گی اور اربوں ٹن مٹی میں دفن شدہ خزانے تلاش کر لے گی۔یعنی وہ اس حد تک زمین کو چیرتی ہوئی اُس کی گہرائیوں میں اتر جانے اور دور دور تک دیکھنے والی ہوگی۔اب یہ مستقبل کے دجال کی اتنی دلچسپ تصویر ہے جو آجکل کی عیسائی قوموں پر جو تمام دنیا پر حکومت کر رہی ہیں بعینہ پوری اترتی ہے۔جب میں یورپ آیا اور اس سے قبل بھی مجھے یہی خیال تھا کہ مغربی اقوام کی خصوصیات کے بارہ میں آنحضور ﷺ کے بیان فرمودہ لفظ اعور سے بہتر کوئی لفظ استعمال ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ان اقوام کے لوگ در حقیقت نہایت ذہین اور گہری نظر رکھتے ہیں اور جہاں تک دنیا کے مسائل کا تعلق ہے بڑی جستجو کرتے ہیں۔انہیں یا درکھنا چاہئے کہ تعبیر الرویا میں ہمیں بتایا گیا ہے کہ کسی شخص کی بائیں سمت سے مراد دنیا اور مادی اشیاء ہیں۔اور دائیں سمت سے روحانیت مراد ہوتی ہے۔چنانچہ آپ کے اس کی دائیں آنکھ کا بے نور ہونا بیان فرمانے سے مراد یہی ہے کہ وہ بظا ہر بڑے زبر دست دکھائی دیں گے۔لیکن وہ ہر اچھی بات کے بارہ میں اندھے کی طرح ہوں گے کیونکہ مسلمانوں کے علم تعبیر الرویا میں اچھی بات تقویٰ کی نشانی ہے۔چنانچہ نیکی ، تقوی ، روحانیت، مذہب ، اور خدا سے تعلق رکھنے والی باتوں کی دجال کو سمجھ ہی نہیں آسکتی کیونکہ جیسا میں بیان کر چکا ہوں یہ سب کچھ مغربی ممالک اور طاقتور عیسائی اقوام کے طرز زندگی سے ظاہر و باہر ہے۔چنانچہ جب میں