خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 139
خطبات طاہر جلد اول 139 خطبه جمعه ۱۰ر ستمبر ۱۹۸۲ء حقارت سے ان کو دیکھتی ہیں تَزْدَرِی اَعْيُنُكُمْ (هود: ۳۲) جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے۔لیکن جنہوں نے اپنا سب کچھ خدا کیلئے پیش کر دیا ہو اللہ کے پیار کی نگاہیں ان پر پڑا کرتی ہیں۔ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ کے پیار کی نگاہیں ان سب قربانی کرنے والوں کے دل پر پڑیں ، ان کے چہروں پر پڑیں، ان کے جسم کو اس سے مس کریں جنہوں نے کسی نہ کسی رنگ میں سپین میں تبلیغ کی راہ میں قربانیاں پیش کی تھیں۔ان کی اولا د بھی ساری اسی رنگ میں رنگی ہوئی ہے، خدا کے فضل سے۔انتہائی انکسار کے ساتھ خدا کی راہ میں مٹی ہو کر انہوں نے خدمت کی۔بیٹے کیا اور بیٹیاں کیا ، ماں کیا اور باپ کیا۔سارا خاندان لگا ہوا ہے۔کسی نے ایک لفظ نہیں کہا کہ ہماری اتنی خدمتیں ہیں۔ہمیں کیوں نمایاں مقام نہیں دیا گیا۔ہم سے کیوں یہ سلوک نہیں کیا گیا۔یہ وہ جذبہ ہے۔یہ وہ روح ہے جو واقفین میں ہونی چاہئے اور ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ اس روح کو ہر واقف کے دل میں زندہ کر دے اور جگہ جگہ بستی بستی ہمیں اس قسم کی روح کے واقفین میسر ہوں۔کیونکہ کام بہت ہے اور آدمی تھوڑے ہیں۔طاقت بہت کم ہے۔مقابل پر دشمنوں کی تعداد کیا اور ان کی مالی قوتیں کیا اور ان کی سیاسی قو تیں کیا۔بے انتہا ایسی نا قابل عبور چوٹیاں نظر آتی ہیں پہاڑوں کی ، جن کا سر کرنا انسان کے بس میں نظر نہیں آتا۔پھر اسی سلسلے میں دعا کی تحریک کرتا ہوں اپنے بھائی عزیزم میرمحمود احمد صاحب اور ان کی بیگم کے لئے بھی ، اپنی ہمشیرہ عزیزہ امتہ المتین کے لئے۔انہوں نے دن رات بے حد محنت کی۔جب یہ آئے۔تو اس گھر کا صرف ایک ڈھانچہ سا کھڑا تھا اور بیحد محنت کی ضرورت تھی۔بہت سے کاموں کی ضرورت تھی۔میری ہمشیرہ نے مجھے بتایا کہ جس دن، رات تین بجے مجھے سونے کا موقع ملتا تھا تو میں شکر کرتی تھی اللہ تعالیٰ کا اور سمجھتی تھی کہ جلدی سونا نصیب ہو گیا ہے۔خاموشی کے ساتھ لمبی منتیں کی ہیں ان لوگوں نے۔پھر انگلستان کی جماعت ہے۔شیخ مبارک احمد صاحب اور ان کے ساتھی وہاں سے آتے رہے۔بے حد کوشش ہوئی ہے اس کے پیچھے۔اور دنیا کو تو صرف ایک عمارت نظر آتی ہے کھڑی ہوئی۔اور سمجھتے ہیں کہ ایک ایسی مسجد ہے جیسی سینکڑوں، ہزاروں دنیا میں بن رہی ہیں۔مگر یہ ایسی مسجد نہیں۔آج کی دنیا میں ایسے آنسو بھلا کس مسجد کو نصیب ہوئے ہیں۔جیسے اس کو نصیب ہوئے ہیں؟ ایسی قربانیاں کس