خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 96 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 96

خطبات طاہر جلد اول 96 96 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء قرآن کریم اس آیت کے ذریعے اس سارے نظریے کو جھٹلا دیتا ہے اور دلیل اپنے ساتھ رکھتا ہے۔قرآن کریم یہ بیان کرتا ہے کہ دیکھو! یہ سارے قدرتی نظارے جو تمہارے نزدیک خداؤں کو جنم دینے والے ہیں، ہم ایسی جگہوں کو جو ان نظاروں سے بھر جاتی ہیں اگر چاہیں تو ان کو اپنی یاد سے خالی رکھ سکتے ہیں۔کوئی ایک دل بھی ہماری طرف متوجہ نہیں ہوسکتا ورنہ اگر یہ حقیقت ہوتی کہ یہ نظارے طبعا خدا کو پیدا کرتے ہیں تو جہاں جہاں حسین مناظر دنیا میں نظر آئیں وہاں سب سے زیادہ خدا موجود ہونے چاہئیں۔کیوں صحرائے عرب میں وہ جلوہ گر ہوتا ہے۔کیوں فاران کی چوٹیوں سے اس کا مظہر اترتا ہے اور کیوں حسین وادیوں میں اس کا کوئی نام ونشان دکھائی نہیں دیتا۔فرماتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں۔وہ آنکھوں کو پاتا ہے۔اس میں ایک اور حسین طرز کلام یہ ہے کہ پرانے زمانہ میں جو تصور تھا کہ نظر کسی چیز کو پکڑتی ہے یہ واقعتاً غیر سائنسی اور غیر حقیقی تصور تھا۔چنانچہ قرآن کریم وہ پہلی کتاب ہے جو اس تصور کو جھٹلا رہی ہے۔نظارے آنکھوں تک پہنچا کرتے ہیں۔نظر نظاروں تک نہیں پہنچا کرتی اور جو نظارے آنکھوں تک نہ پہنچیں ان سے نظر غافل رہتی ہے خواہ نظارے غائب ہو جائیں ،خواہ پر دے حائل ہو جائیں، خواہ اور غفلتیں بیچ میں حائل ہو جائیں لیکن نظر کوئی چیز نہیں جب تک نظارے نظر کو نہ پکڑیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جب باقی نظارے بھی خود نظر کو پہنچتے ہیں اور نظریں طاقت نہیں رکھتیں کہ چھلانگ لگا کر نظاروں تک پہنچ جائیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ میری ذات کو نظر پکڑے جب کہ میری ذات ان نظاروں سے پس پردہ اور وراء الوری ہے۔میں چاہوں تو ان تک پہنچوں گا۔میں نہیں چاہوں گا تو ان تک نہیں پہنچوں گا۔فرماتا ہے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وہی ہے جو خود عقلوں اور فہموں تک پہنچتا ہے۔وہی ہے جو بصیرت پر جلوہ گر ہوتا ہے۔خود انسانی بصیرت میں یہ طاقت کہاں کہ وہ اپنے رب کو پاسکے۔اس مضمون کے بیان کرنے کے معاً بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بصیرت کس طرح انسان کو پہنچتی ہے۔خدا تعالیٰ کا ادراک کیسے ہوتا ہے اور خدا کس طرح جلوہ گر ہوتا ہے۔فوراً اس مضمون میں داخل : مل ہو جاتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ ۚ فَمَنْ أَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے