خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 70
خطبات طاہر جلد اول 70 10 خطبہ جمعہ ۲۳؍ جولائی ۱۹۸۲ء جاتے ہیں۔لیکن اللہ کی راہ میں صاف اور سیدھا ہونے کے لئے ضروری ہے کہ اس معاملہ میں انسان اپنے نفس پر رحم نہ کرے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کے متعلق قرآن کریم نے یہ اعلان فرمایا: اِنَّهُ كَانَ ظَلُومًا جَهُولًا) (الاحزاب :۷۳) کہ وہ جو رحمت للعالمین ہے غیروں کیلئے اپنے نفس کے لئے اس سے بڑھ کر ظالم ہے ہی کوئی نہیں۔وہ اپنے نفس پر حد سے زیادہ ظلم کرتا ہے۔پس یہ ہے نقشہ مومن کی زندگی کا کہ غیروں کے لئے رحم اور اپنے نفس پر ظلم اور ایسا ظلم کہ وہ کبھی بھی نفس کو باغی نہ ہونے دے۔پس ایسے لوگوں سے میں یہ کہتا ہوں کہ وہ بھی اپنی فکر کریں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ پھر ان برکتوں کو چھین لیا کرتا ہے۔وہ اس معاملہ میں انصاف کا سلوک کرتا ہے ایسے لوگوں کی اولادیں ضائع ہو جاتی ہیں۔وہ دکھوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے اور ان کے لئے بہت ہی خوف کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ ساری جماعت کو ان خطرات سے محفوظ رکھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: تم یقیناً سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کیلئے ہے۔“ ( مجموعه اشتہارات جلد سوم صفحه ۴۹۸) پھر فرماتے ہیں: اور جو شخص ایسی ضروری مہمات میں مال خرچ کریگا ( یہ دیکھیں کیسی زبر دست ضمانت دی جا رہی ہے مال خرچ کرنے والے کو ) میں امید نہیں رکھتا کہ اس مال کے خرچ سے اس کے مال میں کچھ کمی آ جائے گی۔بلکہ اس کے مال میں برکت ہوگی۔پس چاہئے کہ خدا تعالیٰ پر توکل کر کے پورے اخلاص اور جوش اور ہمت سے کام لیں کہ یہی وقت خدمت گزاری کا ہے۔پھر بعد اس کے وہ وقت آتا ہے کہ ایک سونے کا پہاڑ بھی اس راہ میں خرچ کریں تو اس وقت کے ایک پیسے کے برابر نہیں ہوتا۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۴۹۷)