خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 233 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 233

خطبات طاہر جلد اول 233 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء صراط مستقیم کے دونوں پہلو اس آیت میں بیان فرما دئے گئے ہیں۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے مخلوق کی ہر شکل بالآخر اپنے رب تک اس طرح پہنچتی ہے کہ وہ اس پر ملِكِ يَوْمِ الدِین کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔مُلِكِ يَوْمِ الدِّین سے کیا مراد ہے۔قرآن کریم دوسری جگہ اس کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے: يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِنَفْسٍ شَيْئًا وَالْأَمْرُ يَوْمَيذٍ لله (الانفطار : ۲۰) یعنی کوئی نفس نہ کسی دوسرے نفس کا مالک ہو گا نہ اپنے نفس کا اور ہر قسم کی مالکیت اور اختیار خالصہ اللہ کا ہوگا۔گویا اس جہان میں جو ہم عارضی مالک بنائے گئے تھے خواہ اشیاء کے مالک ہوں یا صفات کے، اس عارضی مالکیت سے ہر وجود کلیۂ عاری ہو چکا ہو گا۔نہ اس کی ذاتی صفات ہونگی۔نہ مالکیت کی دوسری شکلوں پر اسے کوئی اقتدار ہوگا اور کلیۂ نیست ہو کر اپنے رب کے حضور لوٹے گا۔اسے کسی چیز پر بھی اختیار اور قبضہ نہیں رہیگا۔یعنی انجام کار صرف خدا ہی مالک ہوگا ہر چیز اس کی طرف لوٹ چکی ہوگی اور ہر مخلوق ہر دوسری چیز سے عاری ہو چکی ہوگی۔یہ جو مضمون ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا، یہ خلیق کی ہر شکل پر حاوی ہے۔انسان بھی اس کے دائرہ میں ہے۔حیوان بھی اس کے دائرہ میں ہے۔نباتات بھی اس کے دائرہ میں ہیں اور جمادات بھی اس کے دائرہ میں ہیں۔اور ہر چیز اس حالت میں اپنے رب کی طرف لوٹتی ہے کہ ذاتی طور پر اس کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔آج کی سائنس نے مادہ کے اپنے رب کی طرف لوٹنے کا جو نقشہ کھینچا ہے اس میں بھی بعینہ ملِكِ يَوْمِ الدِّین کی تفسیر نظر آتی ہے۔چنانچہ سائنسدان آسمانوں کی اجسام پر غور کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ بہت سے بڑے بڑے ستارے جو ہمارے سورج سے سینکڑوں گنا بڑے ہیں اچانک کہیں غائب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔اور اتنی شدید قوت کا ایک مرکز اُن کو اپنی طرف کھینچتا ہے کہ ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔وہ اس مرکز میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر اُن کی کوئی خبر نہیں ملتی۔یہ تو آج کی دنیا میں ایک عام بات ہو چکی ہے۔یہ کوئی نئی خبر نہیں رہی لیکن جس طرف میں