خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 63
خطبات طاہر جلد اول 63 خطبه جمعه ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء سے اطلاع دے کہ وہ ایک فرض حتمی کے طور پر اس قدر چندہ ماہواری بھیج سکتا ہے مگر چاہئے کہ اس میں لاف و گزاف نہ ہو۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۴۶۸) یعنی اگر انسان کے چندوں میں جھوٹ کی ملونی شامل ہو جائے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ارشاد کے مطابق ایسے لوگ ان لوگوں میں شمار نہیں ہوں گے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبر دی کہ میرا ان سے پیوند ہے۔پس اپنا پیوند امام وقت کے ساتھ مضبوط کرنے کے لئے اپنے اموال کو اس نظر سے دیکھو کہ وہ کس حد تک پاکیزہ ہیں اور کس حد تک ان میں نفس کی ملونی یا جھوٹ کی ملونی شامل ہو چکی ہے۔اس ضمن میں سب سے اہم اور بنیادی بات یہ ہے کہ جب تک جماعت میں مجلس شوریٰ کے مشورہ سے خلیفہ وقت نے ایک شرح مقرر کر رکھی ہو اس وقت تک اس شرح میں بددیانتی سے کام نہیں لینا۔اللہ تعالیٰ آپ کو جتنا مال دیتا ہے وہ جانتا ہے کہ کتنا دے رہا ہے جس نے خود دیا ہو اس سے دھو کہ کیسے ہو سکتا ہے۔کیسی احمقانہ کوشش ہے وہی نقشہ ذہن میں آ جاتا ہے۔يُخْدِعُونَ اللهَ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا اَنْفُسَهُمْ وَ مَا يَشْعُرُونَ) (البقر و ۱۰) خدا کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔کیسے دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں۔وَالَّذِینَ امَنُوا کہہ کر وضاحت فرما دی کہ براہ راست تو خدا کو دھوکا کوئی نہیں دے سکتا۔خدا پر ایمان لانے والے جو خدا کے نام پر ان کے ساتھ معاملہ کر رہے ہوتے ہیں ان کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں جو دراصل خدا کو دھوکا دینے کے مترادف ہوتا ہے لیکن ان کی کوشش کا خلاصہ یہ ہے : وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ اپنے نفس کے سواوہ کسی اور کو دھوکا نہیں دے رہے۔یہ ہے نفاق کا وہ مضمون جو ساری دنیا کے ہر عمل میں پھیلا پڑا ہے وہ تمام مذاہب جو خدا کی طرف منسوب ہونے والے مذاہب ہیں ان کی ساری تاریخ کا یہ خلاصہ ہے کہ ایک بہت بڑی تعداد ان میں ایسی شامل ہو جاتی ہے جو اپنے نفس کو دھوکا دیتے ہوئے یہ سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ جھوٹ بولا جا سکتا ہے۔نہیں بولا جاسکتا۔یہ ناممکن ہے۔رازق وہ ہے جو آپ کے محکمہ میں کام کر رہا