خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 13 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 13

خطبات طاہر جلد اول 13 خطبه جمعه ۱۸/ جون ۱۹۸۲ء کریں جس انکساری کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کا حقیقی وصل ہوتا ہے۔اور باقی باتیں چھوڑیں صرف اس آیت کے مضمون پر جب میں غور کرتا ہوں تو میں اپنی زندگی کو اس آیت کے انعامات کا بے حد زیر بار پاتا ہوں۔ساری عمر اگر صرف اسی آیت کے احسان کا شکر ادا کرتار ہوں تو نہیں کرسکتا۔کیونکہ اس کے طفیل میں نے بہت سے معارف کے پھل کھائے ، بہت سی غلطیوں سے، بہت سی ٹھوکروں سے اللہ تعالیٰ نے مجھے محفوظ رکھا۔اور یہی وجہ ہے کہ آج میں نے اس آیت کو اپنے اس خطبے کے لئے چنا ہے۔اور بعض مثالیں میں آپ کے سامنے پیش کرنی چاہتا ہوں جو میرے دل کا راز تھیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان کے بیان سے بہت سے دوستوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ کا انتخاب ہوا تو اس میں کوئی شک نہیں کہ جو دوست وہاں موجود تھے بلاتر در انہوں نے بیعت کی اور زبان سے ایک اقرار کیا اور یہ عہد باندھا کہ ہم انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس اقرار کے حقوق کی حفاظت کریں گے اور اس کے تقاضوں کو نباہتے رہیں گے۔میں بھی ان میں شامل تھا اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی توفیق سے۔لیکن گھر آ کر جب میں نے غور کیا تو میں نے اپنے میں بہت سی پرانی میلیں دیکھیں، کئی غلط فہمیاں پائیں ، کئی لحاظ سے میں نے دیکھا کہ یہ دل ہدیہ حضور کی خدمت میں پیش کرنے کے لائق نہیں ہے۔پھر میں نے آنسوؤں سے اس کو دھویا ، خدا تعالیٰ کے حضور انکساری سے گرا ، اس سے مدد طلب کی کہ میں نہیں جانتا کہ یہ دل تحفہ پیش کرنے کے لائق ہے کہ نہیں ، تو توفیق عطا فرما کہ ایسا ہو جائے۔اور پھر حضور کی خدمت میں ایک خط لکھا۔میں نے عرض کیا کہ آج کے بعد میرا دل اور میری جان آپ کے قدموں پہ حاضر ہے اور میں اپنے رب سے امید رکھتا ہوں کہ مجھے اس کی توفیق عطا فرمائے گا۔آپ سے میری یہ عاجزانہ درخواست ہے کہ ایک دعا میرے لئے کریں کہ حضرت مصلح موعود کے سب بیٹوں میں سب سے زیادہ مجھے عاجزی اور انکساری سے آپ کی خدمت کی توفیق ملے اور ایسی محبت عطا ہو کہ اور کسی کو نہ ہو۔بعد میں میں نے سوچا کہ بہت بڑی بات کی ہے۔اور طبیعت میں شرمندگی بھی پیدا ہوئی۔لیکن اس کے ساتھ ہی ایک اور خیال بھی میرے دل میں آیا کہ زبان اور دل کی گواہی بھی کافی نہیں بسا اوقات انسان بڑے خلوص کے ساتھ اقرار کرتا ہے ہدیے پیش کرتا ہے زبان کے اور دل کے لیکن جب عملاً ابتلاء کے دور میں سے گزرتا ہے تو ٹھو کر کھا جاتا ہے۔بہت سے بڑے سچے خلوص سے ہے۔