خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 124
خطبات طاہر جلد اول 124 خطبه جمعه ۲۰ / اگست ۱۹۸۲ء سے کیا چاہتی ہے، ہمیں کس طرف لے کر جاتی ہے ، کن کن مواقع پر کام آتی ہے۔کس طرح کام آتی ہے۔میں نے ان کو سمجھایا کہ میں اس وقت اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے دو دو پہلو آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں اگر آپ ان کو سمجھ لیں تو یہی آپ کے لئے کفایت کر جائینگے إِيَّاكَ نَعْبُدُ میں ایک دعا کے رنگ میں یہ پیغام ہے کہ اے خدا! ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تیری ہی عبادت کرنا چاہتے ہیں۔اس کے اندر دونوں پہلو آ جاتے ہیں۔نَعْبُدُ میں ایک مستقبل کا پہلو ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرینگے ہم نے فیصلہ کر لیا ہے اور کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔یعنی ہم یہ چاہتے ہیں کہ تیرے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔دوسرا پہلو ہے تیرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے۔اس کے نتیجہ میں کیا ہوتا ہے اس کے نتیجہ میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ عبادت کا حق تو ہم ادا نہیں کر سکتے۔ہم کمزور ہیں۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ عارفانہ نکتہ بیان فرمایا ہے کہ مومن کا دماغ اس طرف چلا جاتا ہے کہ یہ نماز تو ہم سے کھڑی نہیں ہوتی۔کئی قسم کے تفکرات اور کئی قسم کے خیالات دل کو گھیر لیتے ہیں۔کئی اور کام ہوتے ہیں جن کے کرنے کی جلدی ہوتی ہے توجہ اس طرف پھر جاتی ہے۔کئی ظاہری دلچسپیاں ہیں جو بت بن کر سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں۔انسان ایک مصیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ نماز میں توجہ کیسے قائم رکھے تو معاً اس کا جواب یہ دیا اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ۔اے ہمارے آقا امد دبھی تو تجھ سے ہی چاہتے ہیں اور ہمیشہ تجھ سے ہی چاہیں گے۔کسی اور کی طرف دھیان نہیں دیں گے اور مدد کے لئے نہیں پکاریں گے اس لئے اگر ہم اپنے خلوص دل کے ساتھ تیری عبادت پر قائم ہونا چاہتے ہیں۔تو پھر اے ہمارے معبود ! تو مالک اور با اختیار ہے۔ہم تو مالک اور با اختیار نہیں۔ہم ابھی کہہ آئے ہیں کہ تو ہی مالک ہے تیرے سوا کوئی مالک نہیں تو پھر اے خدا ہمیں عبادت کی توفیق عطا فرما۔مدد بھی تجھ سے ہی مانگتے ہیں۔تو ہماری گرتی ہوئی نمازوں کو کھڑا کر دے۔تو ہمارے ڈوبتے ہوئے دلوں کو حوصلہ دے اور اپنی عبادت کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق بخش۔إيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ہم نے تو اب صرف تیری عبادت کرنی ہے۔باقی سب جھوٹے خدا ہیں ، ہم نے ان کو چھوڑ دیا ہے۔کوئی بت باقی نہیں رہنے دیا، کسی دوسری چیز کا کوئی سہارا نہیں ڈھونڈا، اب ہم جائیں تو کہاں جائیں۔ہم تو مشکل میں پڑے ہوئے ہیں۔ہمیں تو مصیبتیں لاحق ہیں۔اب تیرے سوا ہمارا کون ہے۔ہم تجھے چھوڑ کر کہاں جائیں جب ہم تیری ہی عبادت