خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 95 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 95

خطبات طاہر جلد اول 95 95 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء تھا کہ اس میں حکمت کیا ہے۔کیوں ان لوگوں کو تو دکھائی نہیں دے رہا۔لیکن جب اگلی آیت پر میری نظر پڑی تو میرے سارے مسائل کا حل مجھے اس میں مل گیا۔اللہ تعالیٰ اس کے معا بعد فرماتا ہے: ج لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ کہ اے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے والو! تمہاری آنکھوں میں یہ مقدرت نہیں کہ اس کو دیکھ سکو ہاں وہ خود آنکھوں تک پہنچا کرتا ہے جب تک وہ اپنے آپ کو نہ دکھائے یا اپنے چہرہ سے پردہ نہ اٹھائے کسی آنکھ میں طاقت نہیں کہ اس کو دیکھ سکے۔پس یہ آیت ایک عظیم الشان فلسفہ کو بیان کرنے والی ہے۔اس میں ایک بڑا ہی وسیع مضمون بیان ہوا ہے۔اس کا یہاں مختصر اذکر کرنے کے بعد پھر میں آگے بڑھوں گا۔مذہبی اور غیر مذہبی اہل فکر کے درمیان بہت پرانی ایک بحث چلی آئی ہے۔مذہبی اہل فکر خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں، خدا کو جس شکل میں بھی وہ مانتے ہوں ، وہ یہی سمجھتے ہیں کہ خدا ظاہر ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں مذاہب پھوٹتے ہیں۔جبکہ غیر مذہبی تو میں یہ خیال کرتی ہیں کہ خدا کوئی نہیں وہ ظاہر نہیں ہوتا۔قانون قدرت انسانی ذہن کو ایک ماوراء الوریٰ ہستی کی طرف متوجہ کر دیتا ہے، حقیقت میں کوئی وجود نہیں یہ تو انسان ہے جو بس سوچنے لگ جاتا ہے مرعوب ہو کر نظاروں سے، ہیبت زدہ ہو کر بجلی کی کڑکوں سے متاثر ہو کر خوفناک جانوروں سے اور مسحور ہو کر خوبصورت ندیوں کی روانی ، ان کی گنگناہٹ اور سرمدی نغموں سے کہ میرا کوئی خدا ہوگا اور اس کے نتیجہ میں مختلف خدا بنا لیتا ہے۔اور پھر انسانی سوسائٹی رفتہ رفتہ ترقی کرتے ہوئے ان خداؤں کو جمع کرنا شروع کر دیتی ہے۔وہ مختلف خدا تعداد میں گھٹنے لگتے ہیں اور انسانی شعور بالغ نظری تک پہنچتے پہنچتے سمجھنے لگتا ہے کہ اتنے خداؤں کی کیا ضرورت تھی چند کافی ہیں۔پھر کوئی تین پر آ کر اٹک جاتا ہے۔کچھ لوگ آگے قدم بڑھاتے ہیں اور ایک تک پہنچ جاتے ہیں۔پھر جب انسان اور زیادہ بالغ نظر ہو جائے تو اس ایک خدا سے بھی چھٹی کر کے تمام عقل کی سطح پر آ جاتا ہے۔یہ ہے مذہب کی تخلیق کا وہ نظر یہ جو غیر مذہبی قو میں پیش کرتی ہیں۔