خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 91
خطبات طاہر جلد اول 91 خطبه جمعه ۶ را گست ۱۹۸۲ء اللہ اپنے آپ کو بصائر سے ظاہر کرتا ہے آنحضرت تمام بصیرتوں کے منبع ہیں (خطبه جمعه فرموده ۶ را گست۱۹۸۲ء بمقام اوسلو ناروے) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیات کی تلاوت فرمائی: ذلِكُمُ اللهُ رَبُّكُمْ ۚ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيْلٌ لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ قَدْ جَاءَكُمْ بَصَابِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهِ * وَمَنْ عَمِيَ فَعَلَيْهَا وَمَا أَنَا عَلَيْكُمْ بِحَفِيظ (الانعام: ۱۰۵-۱۰۳) اور پھر فرمایا: ناروے ایک ایسا ملک ہے جسے اللہ تعالیٰ کی قدرت نے بڑی فیاضی کے ساتھ حسن عطا فرمایا ہے۔یہاں کی بل کھاتی ہوئی سڑکیں ہر موڑ پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک نیا جلوہ پیش کرتی ہیں۔یہاں پہاڑوں کی بلندیوں پر آسمان سے باتیں کرتی ہوئی جھیلیں نظر آتی ہیں اور سطح سمندر میں ڈوبتے ہوئے سر بفلک پہاڑ دکھائی دیتے ہیں۔یہاں پتے پتے میں ایک دل نوازی ہے۔یہاں گھنے جنگلات ہیں جن کے سائے تسکین بخش ہیں۔یہاں ہوائیں ہلکی سروں میں گیت گاتے ہوئے چلتی