خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 88
خطبات طاہر جلد اول 88 خطبہ جمعہ ۳۰ / جولائی ۱۹۸۲ء واقعات بھی دنیا میں ہو جاتے ہیں۔پیچھے رہنے والوں سے میں کہتا ہوں کہ دعائیں کریں اور موجیں کریں بے نیاز ہو جائیں ان باتوں سے کہ وہ جاسکتے ہیں یا نہیں جا سکتے۔تقویٰ کا لباس اوڑھ کر یہیں اس مسجد کا طواف کریں جس مسجد کے طواف کے لئے کچھ لوگوں کو جسمانی طور پر جانے کی توفیق مل رہی ہے۔دعاؤں سے مدد کریں۔اہل پین کے لئے دعا کریں اور ان مقاصد کے اعلیٰ تر ہونے کے لئے دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو ہمیں توفیق عطا فرمائے۔جو جا سکے ہیں ان کی نیکی بھی قبول ہو جو نہیں جا سکے ان کی بھی قبول ہو جائے۔خدا کی راہ میں ہم یہ منظر دیکھیں: ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز نہ کو ئی بندہ رہا نہ کو ئی بندہ نواز خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: جیسا کہ امیر صاحب نے اعلان فرمایا تھا ، جماعت کراچی کی طرف سے میرے بڑے بھائی مکرم محترم صاحبزادہ مرزا ظفر احمد صاحب نے مجھے توجہ دلائی کہ یہ موقعہ ایسا ہے کہ بہت سے لوگوں کو خواہش ہوگی کہ ہم بھی دستی بیعت کر لیں تو آپ جمعہ کے بعد وقت دے دیں۔میں نے انہیں جزاکم اللہ کہا کہ آپ نے بڑی اچھی طرف، نیکی کی طرف توجہ دلائی۔ان سے میں نے گزارش کی کہ وہ امیر صاحب سے بات کر لیں۔چنانچہ اسی کے نتیجہ میں ابھی امیر صاحب نے بھی یہ اعلان کیا ہے۔تو بیعت کے وقت جیسا کہ بتایا گیا ہے ، صفوں میں ہی بیٹھے رہیں۔زیادہ سے زیادہ ہاتھ رکھنے کے لئے اگر تھوڑ اسا آگے سرکنا پڑے تو وہ مجبوری ہے۔لیکن نظم وضبط کے ساتھ ، خاموشی کے ساتھ اسی طرح بیٹھے رہیں ، جس طرح ربوہ میں بیعت ہوئی تھی ادنی سی بھی بدنظمی نہیں ہوئی۔پورے کا پورا مجمع ، اندر بھی اور باہر بھی پوری خاموشی سے بیٹھا رہا اور ایک دوسرے کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ دیے جسمانی رابطہ کے اظہار کیلئے۔ورنہ اصل رابطہ تو قلب کا خدا سے ہوا کرتا ہے۔اسمیں جسمانی رابطے کی ضرورت نہیں۔مگر یہ بھی سنت اولیاء اور سنت انبیاء ہے اس لئے ہم اس سنت کو اختیار کرتے ہیں۔یہ وضاحت میں اس لیے کر رہا ہوں کہ بچے بھی ہوتے ہیں ، نئی نسل ، نئے آنے والے بھی ہیں ان کو حکمت سمجھ آجائے اور ہم بدن کے واسطے پر اس لئے زور نہیں دے رہے کہ گویا بدن کے راستے سے