خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 78
خطبات طاہر جلد اول 78 خطبہ جمعہ ۳۰ جولائی ۱۹۸۲ء مہمان نوازی کا ایک نظام چل رہا تھا۔اس لیے اکثر میرا پیسہ ٹک شاپ چلا جاتا تھا اور پہننے کے لیے بعض دفعہ کپڑے نہیں ہوتے تھے۔شلواریں سیتے تھے تو آہستہ آہستہ وہ ڈھل ڈھل کر پستہ بن جاتی تھیں اور سیون سے پھٹنے لگتی تھیں۔اس وجہ سے میں نے کالج کی کئی کلاسیں Miss کیں۔اب میں نے بعد میں سوچا تو میں ناکام ہو گیا۔بچپن میں ایک موقع پر کامیاب ہوا۔جوانی میں ترقی کرنی چاہئے تھی مگر میں نا کام ہو گیا۔میری تعلیم کی راہ میں لباس کو حائل نہیں ہونا چاہئے تھا۔ی احساس، احساس کمتری جو ہے، یہ حکمت کا احساس نہیں ہے کہ ایک بچہ یا بڑا جو بھی ہو، وہ لباس کی وجہ سے اعلیٰ مقصد کے حصول میں ناکام رہ جائے۔بے نیاز ہونا چاہئے ایسی بلند نگاہیں ہونی چاہیں کہ بالکل پرواہ ہی نہ ہو۔وہ نگاہیں حضرت محمد مصطفی ﷺ کو عطا ہوئیں جن کی خاطر کائنات پیدا کی گئی۔حضرت عائشہ صدیقہ بیان فرماتی ہیں کہ بسا اوقات خود بیٹھ کر سوئی دھاگے سے کپڑے سی رہے ہوتے تھے اور بعض دفعہ پیوند پر پیوند لگ رہے ہوتے تھے اور پھر پیوند پر پیوند پر پیوند کے اوپر بھی پیوند لگ رہا ہوتا تھا۔( مسند احمد بن حنبل جلد 6 ص 121 ) عظیم اور حیرت انگیز رسول تھا۔ان چیزوں سے بالا تھا اور بے نیاز تھا۔اچھے کپڑے آئے وہ بھی پہنے۔جھوٹا فقر نہیں تھا۔نہ جھوٹا فخر تھا، نہ جھوٹا فر تھا۔دونوں سے بے نیاز رسول۔باہر سے اچھے کپڑے آئے بڑے خوبصورت جسے آئے یہ نہیں سوچا کہ میں پہنوں گا تو لوگ کہیں گے اوہو! یہ تو دنیا کی چیزیں پہن رہا ہے۔جانتے تھے کہ اللہ نے یہ زینتیں مومنوں کے لیے پیدا کی ہیں۔صرف تقویٰ ساتھ رہنا چاہئے۔اگر تقویٰ کا لباس دنیاوی لباس کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائے تو پھر وہ الہی رنگ پکڑتا ہے ور نہ نہیں پکڑتا۔ادنی لباس بھی تکبر کا موجب بن جاتا ہے اگر اس خوف سے پہنے کہ اگر میں نے اعلیٰ پہنا تو لوگ کیا کہیں گے کہ اچھا! یہ دُنیا دار ہے۔چیتھڑے پہنے ہوئے لوگ ذلیل ہو جاتے ہیں۔حقیقت میں انسان کو ہلاکت کی طرف لے جاتے ہیں۔اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ میں چیتھڑوں میں بڑا بزرگ لگوں گا ، میں کم کھاؤں گا تو بڑا اچھا لگوں گا، لوگ کہیں گے یہ بڑا صوفی ہے، یہ بڑا نیک ہے، تو اس کو تو چیتھڑوں نے ہلاک کر دیا۔اور اگر کوئی اچھا لباس پہن کر فخر سے دنیا میں پھر رہا ہے فقر کے مقابل پر، تو وہ اس آزمائش میں مبتلا ہو گیا اور جو اپنے غریب بھائیوں پر صرف اس لیے تکبر کی نگاہ ڈال رہا ہے کہ ان کے پاس تھوڑ ا لباس ہے یعنی چھوٹے درجے کا لباس ہے، میرے پاس