خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 72 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 72

خطبات طاہر جلد اول 72 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء نصیحت کرتا ہوں۔ایک تو بکثرت دعاؤں کے ذریعہ اس تقریب میں شامل رہیں۔جگہ کا فاصلہ خدا کی آنکھ کے سامنے کوئی حقیقت نہیں رکھتا۔وہ تمام احمدی مرد ہوں یا عورتیں، بچے ہوں یا بڑے وہ سارے اللہ کی نگاہ میں اس تقریب میں شامل ہوں گے جو پورے خلوص اور درد کے ساتھ دعائیں کر رہے ہوں گے کہ اے خدا! اس تقریب کو ہر پہلو سے بابرکت بنا۔دوسرے میں یہ کہوں گا کہ میری عدم موجودگی میں اپنے عفو اور مغفرت اور بھائی چارے کے معیار کو اور بھی زیادہ بڑھانے کی کوشش کریں۔اللہ گواہ ہے کہ میرا دل ربوہ میں انکار ہے گا۔مرکزی جماعت کا ایک اپنا مقام ہوتا ہے اور اس کے ساتھ جو پیار کا تعلق ہوتا ہے ویسے ساری جماعت کے ساتھ ہے مگر مرکز کی جماعت کے ساتھ پیار کا تعلق ایک حیثیت رکھتا ہے اس لئے یہ فکر ر ہے گی۔خدانہ کرے کہ وہ پریشانی میں تبدیل ہو کر آپ لوگ کہیں آپس میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر الجھیں نہیں۔بلا وجہ اختلافات میں مبتلا ہو کر میرے لئے دکھ کا موجب نہ بنیں اپنے بہن بھائیوں کے لئے دکھ کا موجب نہ بنیں۔پس زبان سے ، قول سے فعل سے کوئی ایسی بات نہ کہیں جو کسی کو دکھ پہنچانے کا موجب بنے ، استغفار سے کام لیتے رہیں۔محبت کو پھیلائیں اور اسی کی اشاعت کریں۔اللہ تعالیٰ محبت کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔خدا کرے ہمیں اس کی توفیق عطا ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے بعد فرمایا: السلام علیکم و خدا حافظ۔روزنامه الفضل ربوه ۲۸ را گست ۱۹۸۲ء)