خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 69
خطبات طاہر جلد اول 69 69 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء جماعت کا ایک طبقہ جو میرے ذہن میں ہے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا وہ تو ان بزرگوں کی اولادیں ہیں جن کی نیکیوں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے ان کے اموال میں بہت وسعت دی۔اور ایک ایسا طبقہ بھی ہے جو پاکستان میں بہت ہی مشکل سے زندگی بسر کر رہا تھایا نسبتا آسانی کی زندگی بھی بسر کر رہا تھا، اسے باہر جانے کی توفیق ملی اور وہ ایسے ممالک میں چلے گئے جہاں روپے کی ریل پیل ہے اور خدا تعالیٰ نے ان کو اتنا دیا اتنا دیا کہ کوئی نسبت ہی نہیں رہی اس مال سے جو وہ یہاں کمایا کرتے تھے اور بعض دفعہ زیادہ عطا بھی ایک کنجوسی کا موجب بن جاتی ہے۔روپیہ زیادہ ہو جائے تو انسان یہ نہیں سوچتا کہ میں شرح کے مطابق دوں گا تو تب بھی غریب کے برابر نہیں پہنچوں گا۔کوئی یہ سوچتا ہے کہ یہ تو ایک لاکھ بن جائے گا۔یہ تو دس لاکھ بن جائے گا۔جس کو خدا سال میں ایک کروڑ عطا فرما رہا ہے اس کے لئے اندازہ کریں کہ دس لاکھ کا جو تصور ہے وہ اس کے لئے کتنا بھیانک ہے کہ میں اکیلا دس لاکھ روپے سالانہ دوں یہ کس طرح ہو سکتا ہے۔وہ کہتا ہے چلو دس ہزار بھی دوں تو بڑی چیز ہے۔آخر جماعت کے کام نکل رہے ہیں۔میرے دس ہزار سے بھی جماعت کو فائدہ ہی پہنچے گا نا۔تو جس طرح صدقہ دیا جاتا ہے خیرات دی جاتی ہے اسی طرح وہ اللہ کو وہ چندہ واپس کر رہے ہوتے ہیں کتنی خطرناک بات ہے۔کتنے دکھ کا مقام ہے۔ان کو تو چاہئے کہ وہ اپنے غریب بھائیوں سے قربانی کے معیار کو زیادہ بلند کرنے کی کوشش کریں۔کیونکہ وہ غریب جو تین سو روپے کما رہا ہے اور موصی ہے اور وہ ہمیں روپے سلسلہ کی خدمت میں اللہ کے نام پر پیش کر دیتا ہے اس کے دوسوستر بھی اس کے لئے نہیں رہتے۔ایسی قربانی پیش کرنے والا دوسرے چندوں میں بھی ہمیشہ پیش پیش ہوتا ہے۔وہ پھر جاتا ہے تحریک جدید کا حساب دیکھتا ہے۔کہتا ہے اس میں بھی میں آگے بڑھ جاؤں اس میں بھی میرا نام ان میں لکھا جائے جن کا نام السَّبِقُونَ الْأَوَّلُون کی دعائیہ فہرست میں لکھا جاتا ہے۔پھر وہاں بھی ادا کرتا ہے۔پھر وہ وقف جدید کا حساب بھی دیکھتا ہے۔پھر وہ صدقات کی مدیں بھی دیکھتا ہے کہ وہاں بھی مجھے موقع مل جائے۔بہت تھوڑا اس کے پاس بچتا ہے۔اتنا تھوڑا کہ جو زندگی کی قوت کو برقرار رکھنے کیلئے بھی کافی نہیں ہوتا۔کہاں اس غریب کی قربانی اور کہاں اس امیر کی قربانی جو ایک کروڑ میں سے دس لاکھ دے رہا ہے۔اس کے پاس اپنی ضرورت میں سے بہت زیادہ رقم یعنی نوے لاکھ روپے بچی ہوئی ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ روپیہ خود اپنی ذات میں حرص کا موجب بن جاتا ہے۔بہت کم ہیں جو اس بخل سے بچائے