خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 68
خطبات طاہر جلد اول 68 خطبه جمعه ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء پوری اتر جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ یقیناً ہمارے چندوں میں غیر معمولی برکت ملے گی۔اب جب میں آپ کو اس مضمون کی طرف توجہ دلا رہا ہوں تو میرے دل میں ایک خوف بھی ہے۔وہ خوف اچھا ہے پیارا خوف ہے۔لیکن ہے خوف اور وہ خوف یہ ہے کہ السَّبِقُونَ الْأَوَّلُون ہر تحریک کے وقت خود ہی آگے آ جاتے ہیں۔وہ مخاطب نہ بھی ہوں ان کے کانوں میں جب آواز پڑتی ہے تو وہ اپنے جائز چندوں سے زیادہ آگے بڑھا کر دینے لگ جاتے ہیں اور یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا ساری جماعت نے ایک قدم اور آگے بڑھا لیا اس لئے میں آپ کو متوجہ کرتا ہوں کہ وہ سارے مخلصین جماعت جو تقوی شعاری کے ساتھ شرح کے مطابق چندہ دے رہے ہیں وہ میرے مخاطب نہیں ہیں وہ اسی طرح چندے دیں۔میں جانتا ہوں ان کی تو کیفیت یہ ہے کہ اگر ان کو یہ کہا جائے کہ اپنا سب مال پیش کر دو تو وہ اپنا سب مال پیش کر دیں گے نہیں رکیں گے۔ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے بیوی بچے ہلاک ہور ہے ہوں۔بھوک سے تڑپ رہے ہوں وہ تب بھی نہیں رکیں گے مخلصین کی یہ ایک کثیر جماعت ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا ہوئی ہے۔ایک دفعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں ایک صحابی کے متعلق حضور نے تعریفی کلمات فرمائے ( مجھے اس وقت ان کا نام یاد نہیں رہا) منشی صاحب تھے کوئی سیالکوٹ کے۔ان کے متعلق حضور نے فرمایا کہ دیکھو! حضرت ابوبکر کی طرح اس شخص نے بھی اپنا سب کچھ میرے حضور پیش کر دیا۔اور اپنے لئے کچھ نہیں رکھا۔جب ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی تو تیزی کے ساتھ گھر گئے اور گھر کی جو چار پائیاں تھیں وہ بھی بیچ دیں کہ میرے آقا نے مجھ سے یہ حسن ظن رکھا اور میری چارپائیاں پڑی ہوئی ہیں۔بچے ابھی تک ان چار پائیوں پر سور ہے ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس جذبے والے غلام آج بھی موجود ہیں اور دین اسلام کی خاطر جماعت کو جب بھی ضرورت پڑے گی ، وہ سب کچھ پیش کر دیں گے۔مجھے اس میں ذرا بھی شک نہیں۔خدا کے کام نہ رکے ہیں اور نہ رکیں گے اور ان مخلصین کی تعداد انشاء اللہ تعالیٰ بڑھتی چلی جائے گی۔مجھے یہ خوف پیدا ہوا کہ اب بھی وہی نہ آگے آجائیں اس لئے وہ میرے مخاطب نہیں ہیں۔بار بار مجھے یہ سمجھانا پڑ رہا ہے۔