خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 67 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 67

خطبات طاہر جلد اول 67 خطبه جمعه ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء وَطَمَعًا وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (السجده ۷) کہ محمد مصطفی ﷺ نے انذار اور تبشیر کا حق خوب خوب ادا کیا۔ایسا کہ اپنے سارے متبعین کو انذار اور تبشیر کے سانچوں میں ڈھال دیاوہ خدا کی محبت اور طمع میں یعنی بشارتوں کے نتیجہ میں راتوں کو اٹھ کر اس کے حضور حاضر ہونے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ اس کے زیادہ سے زیادہ فضلوں کے وارث بن سکیں اور اس خوف سے بھی اٹھتے ہیں کہ مبادا ہم اپنی بداعمالیوں کے نتیجہ میں ان نعمتوں سے محروم رہ جائیں جو نعمتیں حضرت محمد مصطفی" کے ذریعہ ہمیں عطا کی جارہی ہیں کہا کرتے ہیں وہ راتوں کو اٹھ کر يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَطَمَعًاءه خدا کو خوف سے بھی یاد کرتے ہیں اور طمع کے ساتھ بھی یاد کرتے ہیں وَ مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ اور ان کے انفاق فی سبیل اللہ کا ایک سلسلہ جاری ہے۔ہم دیتے چلے جاتے ہیں اور یہ خرچ کرتے چلے جاتے ہیں۔یہ ہے وہ کوثر جو حضرت محمد مصطفی ﷺ نے بہائی اور اس کوثر کی زندگی کی ضمانت کے طور پر ہم پیدا کئے گئے ہیں۔ہم ہیں جن کے سپر د اللہ تعالیٰ نے اس کوثر سے جام بھر بھر کے ساری دنیا کو پلانے کا کام کیا ہے۔اس کوثر کو اپنی قربانیوں سے بھر دیں لیکن یا درکھیں کہ یہ کوثر ایک سب سے پاک رسول کی قربانیوں کا ایک تالاب ہے اس میں گندا قطرہ نہیں جائے گا۔نفس کی ملونی کا ایک ذرہ بھی اس میں داخل نہ کیا جائے گا۔ورنہ آپ قربانی کرنے والوں کے گروہ میں نہیں لکھے جائیں گے بلکہ قربانی کرنے والوں کی قربانیوں کو گندا کرنے والوں کے گروہ میں لکھے جائیں گے۔اس خوف کے ساتھ اپنے نفوس کا محاسبہ کرتے رہیں اور دعا کرتے رہیں کہ اللہ تعالیٰ اس مالی نظام کو ہر پہلو سے پاک اور صاف رکھے اور ہمارے نفس کی ملونیوں سے اس کو بچائے۔حقیقت یہ ہے کہ اگر جماعت کا ایک طبقہ اس معاملہ میں تقوی شعاری اختیار کرے اور غیر اللہ کا خوف نہ کھائے۔شرک نہ کرے اور اس بات پر قائم ہو جائے کہ خدا کی راہ میں میں جو بھی دوں گا۔سچائی کے ساتھ دوں گا۔تو آج شرح بڑھائے بغیر بھی ہمارا چندہ دو گنا بھی ہوسکتا ہے۔کیونکہ الشبقون الاولون کی جو جماعت اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہے۔حضرت محمد مصطفی ﷺ کو اور بعد میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ جماعت من حیث الجماعت ساری جماعت کا خلاصہ ہوتی ہے اور عددی لحاظ سے یہ کم ہوتی ہے۔اس سے میں یہ اندازہ کرتا ہوں کہ ایک بڑی اکثریت ایسی ہوگی ، جو ابھی تک مالی امور میں تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر پوری نہیں اتری۔اگر وہ اکثریت بھی تقویٰ کے معیار پر