خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 62
خطبات طاہر جلد اول 29 62 خطبہ جمعہ ۲۳ جولائی ۱۹۸۲ء اور جہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں نہ کیٹر ا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چراتے ہیں“ ( متی باب ۶ آیت ۹) یہ بہت ہی پیاری نصیحت ہے۔لیکن کامل نہیں کیونکہ کامل دین حضرت محمد مصطفی مے پر نازل ہوا اور ایک قدم آگے بڑھ کر اس نصیحت میں جو کمزوریاں رہ گئی تھیں ان کی طرف بھی قرآن کریم نے توجہ دلائی۔خدا کے حضور صرف مال پیش کرنا کافی نہیں ہے۔اس مال کو پیش کرنے کے لئے جو تفصیلی شرائط درکار ہیں قرآن ان سے آگاہ فرماتا ہے اور کہتا ہے مال بھیج کر اس غلط نہی میں مبتلا نہ ہو جانا کہ ابھی یہ کیڑوں اور چوروں اور ڈاکوؤں اور زنگ سے ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو گیا اور خدا کے حضور پہنچ گیا۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران: ۹۳) جب تک تم ایسا مال پیش نہیں کرو گے جس سے تم محبت رکھتے ہو۔اور اس محبت کے باوجود خدا کے حضور پیش نہیں کرو گے اس وقت تک خدا کو کچھ نہیں پہنچے گا۔ينَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمُ (ج: ۳۸) اگر تقویٰ سے خالی مال ہوگا تو وہ بھی نہیں پہنچے گا۔لَا تُبْطِلُوا صَدَقَتِكُمْ بِالمَنِ وَالأذى (البقرہ: ۳۶۵) احسان جتا کر اور تکلیفیں دے کر بھی اپنے مال کو ضائع نہ کرنا۔غرض بہت سی ایسی بیماریاں ہیں جو اموال کے ساتھ لگ جاتی ہیں اور گھن کی طرح ان کو کھا جاتی ہیں۔ان سب کی طرف قرآن کریم نے توجہ دلائی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ اشتہار کوئی معمولی تحریر نہیں بلکہ ان لوگوں کے ساتھ جو مرید کہلاتے ہیں، یہ آخری فیصلہ کرتا ہوں۔مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔مگر بہتیرے ایسے ہیں کہ گویا خدا تعالیٰ کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔سو ہر ایک ہر شخص کو چاہئے کہ اس نئے نظام کے بعد نئے سرے عہد کر کے اپنی خاص تحریر