خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 54 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 54

خطبات طاہر جلد اول 54 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء گے جو محد مصطفی ﷺے کیا کرتے تھے۔لازماً اس کی متابعت کرنی پڑے گی ، پیروی کرنی پڑے گی تب أجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ کا مضمون شروع ہوگا۔پر فَلْيَسْتَجِوانی میں اللہ تعالیٰ نے جو بندوں سے تقاضے کئے ہیں اس مضمون کو بیان فرما دیا گیا۔کئی دوسری آیات اس کو اور بھی کھول دیتی ہیں کہ استجابت اللہ کا معنی کیا ہے؟ اس کا خلاصہ حضرت محمد مصطفی ﷺے ہیں۔آپ نے اپنے رب کے تقاضوں کا بہترین جواب دیا۔پس لمبی بحث کی ضرورت کوئی نہیں رہتی۔خلاصہ استجابت اللہ کا نام محمد مصطفی ﷺ ہیں۔ان معنوں میں پھر آپ وسیلہ بن جاتے ہیں۔آپ کی اللہ تعالیٰ کی عبادتیں، اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کی محبت ، اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا پیار،اللہ تعالیٰ کے ساتھ آپ کا خلوص اور عشق اور وارفتگی اور قربانی کا تعلق یہ سارا مضمون اس میں آ جاتا ہے کہ استجابت کس کو کہتے ہیں ؟ پس اگر استجابت کا حق انسان ادا کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ میں اس کی پکار کو ضرور سنوں گا اور جب خدا وعدہ کرتا ہے تو اس وعدے کو لازماً پورا کیا کرتا ہے۔اس کا ایک اور پہلو بھی ہے آنحضور عمل ہے یاکسی اور انسان کے وسیلہ ہونے کا۔وہ پہلو یہ ہے کہ دو قسم کی دعائیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حضور پہنچتی ہیں۔ایک براہ راست دعا اور ایک اللہ تعالیٰ کے مقدس بندوں کی دعا اپنے پیاروں کے لئے یا اپنی طرف رجوع کرنے والوں کیلئے۔ان دونوں دعاؤں کا فلسفہ اس آیت میں بیان فرما دیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب میں تم سے اجابت کا معاملہ اس شرط پر کرتا ہوں کہ تم میری باتیں مانو، اگر میرے بندے، محمد مصطفی ﷺ کی باتیں نہیں مانو گے تو ان سے جو دعا ئیں تم کرواؤ گے وہ بھی قبول نہیں ہوں گی۔کیونکہ یہ بنیادی اصول ہے جو اصول میں نے اپنے لئے مقرر کیا وہی اپنے پیارے کے لئے مقرر فرما دیا ہے۔مجھ سے تعلق رکھو گے، میری باتوں کا جواب دو گے، میری باتوں کو تسلیم کرو گے تو میں تمہاری سنوں گا اور اگر دوسرے رستے سے مجھے دھوکہ دینے کی کوشش کرو گے تو میں اس دھو کے میں نہیں آؤں گا۔محمد مصطفی ﷺ بھی اگر تمہارے لئے دعا کریں گے لیکن تم نے ان کی باتیں نہیں مانی ہوں گی تو میں ان دعاؤں کو قبول نہیں کروں گا۔چنانچہ اس مضمون کو مزید کھولتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔إِن تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ ذلِكَ بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللَّهِ وَرَسُوْلِهِ (التوبه : ط