خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 53
خطبات طاہر جلد اول 53 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء سے آپ جوڑتے چلے جائیں گے اتنی ہی خدا کی قربت نصیب ہوتی چلی جائے گی۔پس اس آیت میں آنحضور علیہ کے وسیلہ ہونے کا مضمون بھی بیان فرما دیا گیا اور ساتھ ہی وسیلے کی حکمتیں بھی بیان فرما دی گئیں۔غلط معنی جو وسیلے کو پہنائے جاتے ہیں ان کی نفی بھی فرما دی۔بعض لوگ جو شرک کرتے ہیں جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ شرک کیوں کرتے ہو؟ تو کہتے ہیں یہ بت ہمارا وسیلہ ہیں۔فلاں ارباب جو ہیں اللہ کے سوا، وہ ہمارا وسیلہ ہیں۔تم بھی تو وسیلہ پکڑتے ہو۔تم نے بھی تو محمد صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کو اپنا وسیلہ بنا رکھا ہے۔تو فرق کیا ہے؟ وہ فرق اللہ تعالیٰ بیان فرمارہا ہے۔یہ نہیں فرما تا کہ ہر دعا محمد کے وسیلہ سے کرو۔محمد مصطفی" کو پیغام دو، وہ آگے مجھے پیغام دیں، پھر میں جواب ان کو دوں گا اور وہ تمہیں پہنچائیں گے۔یہ کوئی شرط نہیں رکھی محمد مصطفی " کے قرب کا نام وسیلہ ہے، آپ سے محبت کا نام وسیلہ ہے، آپ سے عشق کا نام وسیلہ ہے، آپ کی متابعت کا نام وسیلہ ہے۔مگر جہاں تک تعلق باللہ کا سوال ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لا أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِبْوَالِى وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: ۱۸۷) میں خود براہ راست ہر پکارنے والے کی پکار کا جواب دوں گا اور میرے اور میرے بندے کے درمیان اس سوال وجواب کے دوران کوئی اور وجود حائل نہیں ہوگا۔ایک تعلق ہے آقا کا بندے سے اور کوئی تیسرا آدمی اس دوران میں اس کے درمیان حائل نہیں ہے۔لیکن شرط یہ ہے فَلْيَسْتَجِيبُوانِى وہ بھی میری باتوں کا جواب دیا کریں، براہ راست جواب دیا کریں۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی عبادتوں کو اپنی عبادتوں کا قائمقام نہ سمجھ لیں کہ اے خدا! چونکہ تیرا محبوب رسول "جس کی کوئی نظیر دنیا میں نہیں ملتی ، وہ عبادتیں کر چکا ہے، وہ تجھے بہت پیارا ہے اس لئے تو ہماری سن لے، اس وسیلے کا انکار کیا جارہا ہے۔فرماتا ہے اس لئے تم اس سے تعلق جوڑو اور اس کے احسان تلے ہمیشہ اپنی روحوں کو دبا ہوا محسوس کرو ، اپنے سروں کو جھکا ہوا محسوس کرو، اس پر درود بھیجو۔یہ ہے وسیلے کا مطلب لیکن محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عبادتیں تمہارے کام نہیں آئیں گی اگر تعلق جوڑنے کے بعد ویسے افعال نہیں کرو