خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 52
خطبات طاہر جلد اول 52 خطبہ جمعہ ۶ ارجولائی ۱۹۸۲ء کے خلائی سفر پیما جب اوپر گئے تو ان میں سے بعض نے بڑی تعلی کے ساتھ گویا خدا کو آواز دی اور انِّي قَرِيبٌ کی کوئی آواز ان کو نہیں آئی۔ کیا وجہ ہے؟ اول تو خدا کو بلانے کا جو حق ہے، اس کی تلاش کا جو حق ہے وہ ادا نہیں کیا گیا۔ دوسرے وہ سنجیدگی اور خلوص ان آوازوں میں نہیں پایا جاتا تھا جو خدا کو پکارنے کے لئے ضروری ہے۔ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ میں لفظ عِبَادِی میں ایک پیار کا بھی اظہار ہے، ایک شفقت کا بھی اظہار ہے۔ یہ قرآن کریم کا اسلوب ہے کہ جب اللہ تعالیٰ بندوں کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو کوئی خاص مقام عطا فرمارہا ہوتا ہے ان کو ۔ إِذَا سَأَلَكَ النَّاسُ نہیں فرمایا کہ جب عوام الناس تجھ سے سوال کریں تو میں قریب ہوں گا ۔ فرمایا میرے بندے میری تلاش کرنے والے جو حقیقت میں مجھ سے پیار رکھتے ہیں اور میرے بغیر رہ نہیں سکتے ۔ یہ ویسا ہی نقشہ ہے جیسے بیقرار ماں اپنے بچے کی تلاش میں نکلی ہو اور وہ بچہ کسی کے پاس ہو۔ گھومتی ، پریشان ، گریہ وزاری کرتی ہوئی ہر طرف جس طرف اس کا سراٹھے وہ چلی جائے اور ہر ملنے والے سے پوچھے، ہر مسافر سے پوچھے کہ میرا بچہ کہاں ہے؟ جو اس کی بیقراری کی حالت ہوتی ہے اس کا اندازہ کیجئے اور پھر اس آیت کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں کہ ایسا بندہ محمد مصطفی ﷺ کے در پہ حاضر ہوتا ہے تو جس طرح وہ شخص جس کے پاس بچہ موجود ہو بڑی علی مسکراہٹ اور شفقت اور یقین اور اعتماد کے ساتھ کہا کرتا ہے کہ ہاں، تیری مراد پوری ہوگئی ، تیرا بچہ میرے پاس ہے۔ اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ماں کے سوال کو سن کر بچہ چیخ پڑتا ہے اندر سے اور بیقراری سے بلاتا ہے کہ اے ماں ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، میں یہاں ہوں ۔ تو یہ نقشہ ہے جو اس آیت میں کھینچا گیا ہے کہ تم صحیح جگہ پہنچ چکے ہو، میرے محبوب محمد کے پاس آگئے ہو، میں جس کے پاس ہمیشہ رہتا ہوں ۔ایک لمحہ بھی اس سے جدا نہیں ہوا، نہ کبھی اس سے جدا ہو سکتا ہوں ۔ پس اے تلاش کرنے والو! طوبى لَكُمْ ! مبارک ہو تمہیں، خوشخبریاں ہوں کہ تم صحیح مقام پر پہنچے انّی قَرِيبٌ میں بتا رہا ہوں تمہیں ، میں تمہیں جب صلى الله آواز دیتا ہوں کہ میں موجود ہوں ۔ کیلئے یہ ہے وہ پہلا حصہ إِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ جس کو سمجھنے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کے اسوہ کا مطالعہ کرنا چاہئے ۔ کس طرح آپ نے خدا کو پایا ؟ کس طرح خدا آپ کے ساتھ رہا؟ اور جتنا تعلق حضرت محمد مصطفی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم