خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 47
خطبات طاہر جلد اول 47 خطبہ جمعہ ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء قبولیت دعا نیز جمعۃ الوداع کی حقیقت (خطبه جمعه فرموده ۶ ار جولائی ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوہ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کریمہ تلاوت فرمائی: وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيْبٌ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (البقره: ۱۸۷) اور پھر فرمایا: رمضان کا مہینہ سارا ہی برکتوں کے حصول کا مہینہ ہوتا ہے اور بخششوں کی طلب کا مہینہ ہے، اللہ کی طرف سے مغفرت کا مہینہ ہے، اس سے عاجزانہ سوال کرنے کا، بھیک مانگنے کا مہینہ ہے، اور اس کی طرف سے شاہانہ عطا کا مہینہ ہے۔لیکن یہ دن وہ ہیں یعنی آخری عشرہ ، جو اس مہینے میں بھی ایک خاص مقام رکھتے ہیں اور ان دنوں میں بھی اس جمعہ کو ایک امتیازی مقام حاصل ہوتا ہے جس جمعہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لئے ہم آج اکٹھے ہوئے ہیں۔دو طرح کے عبادت کرنے والے آج سارے عالم اسلام میں اس جمعہ کی برکتوں سے فیض کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں اور اس کا نام جمعتہ الوداع رکھا گیا ہے یعنی وداع ہونے والا جمعہ یا وداع کیا جانے والا جمعہ۔دو طرح کے وداع کرنے والے آئے ہیں آج: ایک وہ ہیں جو بڑی حسرت کے ساتھ ، بڑے دکھ کے ساتھ ، ان اندیشوں میں مبتلا ہو کر آئے