خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 347 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 347

خطبات طاہر جلد اول 347 خطبه جمعه ۲۴ دسمبر ۱۹۸۲ء مہمانوں کے حقوق اور کارکنان جلسہ کو نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۱۲۴ دسمبر ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصی ربوه ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جلسہ کا وقت جتنا قریب سے قریب تر آتا چلا جا رہا ہے اُسی قدر وقت کی رفتار بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ جوں جوں جلسہ قریب آیا وقت نے چلتے چلتے دوڑ نا شروع کیا اور اب دوڑتے دوڑتے اُڑنے لگا ہے۔ اور جب جلسہ آجاتا ہے تو پتہ بھی نہیں لگتا کہ چلا کب گیا ۔ اس تیزی سے وقت گزر جاتا ہے کہ کا رکنان جلسہ جو مختلف قسم کے فکروں میں مبتلا ہوتے ہیں کہ مشکل ذمہ داریاں کیسے ادا ہوں گی وہ آنِ واحد میں ادا ہو بھی جاتی ہیں اور معلوم بھی نہیں ہوتا کہ جلسہ کب آیا تھا اور کب چلا گیا۔ اور جب جلسہ آ کے چلا جاتا ہے تو اپنے پیچھے ایک بڑی گہری اداسی چھوڑ جاتا ہے ۔ ایسی گہری اُداسی کہ ربوہ کے درودیوار سے اُس وقت اداسی ٹپک رہی ہوتی ہے۔ پہلے جب قافلے آکر جایا کرتے تھے اور نعرہ ہائے تکبیر سے بعض لوگوں کی دل آزاری نہیں ہوتی تھی اور بلند آواز سے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے جب گاڑیاں روانہ ہوتی تھیں تو میں نے کئی دفعہ دیکھا کہ بہت سے کارکنان دورویہ کھڑے خاموشی سے آنسو بہا رہے ہوتے تھے۔ اتنا گہرا دکھ مہمان پیچھے چھوڑ جاتے تھے کہ باہر کی دنیا اسکا تصور بھی نہیں کر سکتی ۔ میں نے سوچا کہ یہ جذبہ اور یہ خلق کہاں سے ہم نے پایا تو ذہن حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام