خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 331 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 331

خطبات طاہر جلد اول 331 خطبه جمعه ۱۰ رو نمبر ۱۹۸۲ء ٹھوکر کا موجب بنتی ہیں۔ان کے لئے آزمائش پیدا کر دیتی ہیں۔اگر کوئی دکان کھلی ہو تو پہلے ایک آدمی آتا ہے۔پھر دو آتے ہیں۔یہاں تک کہ ایک ہجوم اکٹھا ہو جاتا ہے۔پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ نمازوں کے اوقات میں بھی دکانیں بند نہیں ہوتیں حالانکہ ہم عبادت کی خاطر پیدا کئے گئے ہیں۔عبادت کے لئے ہی سارا کاروبار چل رہا ہے آخر یہ کارخانہ عالم ہے کیا ؟ صرف یہ کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ کی عبادت کا مزہ بتائیں، ان کو عبادت کی لذتوں سے آشنا کریں تا که رفته رفته ساری مخلوق اپنے رب کی عبادت کرنے لگے۔یہ ہے مقصد جلسہ سالانہ کا۔اس مقصد کے خلاف عین اس موقع پر یہ حرکت ہو رہی ہو۔جبکہ یہ مقصدا اپنے عروج کو پہنچا ہوانظر آتا ہے، یہ ایک بہت ہی کر یہہ المنظر شکل ہے۔تین باتیں ہیں جن کی میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں۔ایک یہ کہ جلسہ سالانہ کے دوران عبادت الہی پر خاص زور دیں۔دوسرے جلسہ گاہ میں حاضری کا خیال رکھیں۔تیسرے خدا کی خاطران دنوں میں رزق کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جلسہ کے اوقات میں اپنی دکانیں بند رکھیں۔ہمارا جلسہ سالانہ ایک عظیم الشان اجتماع ہے۔اس کے نہایت ہی پاکیزہ اور بلند اور عظیم الشان مقاصد ہیں ان کو ہمیشہ مد نظر رکھیں۔اپنی تمنائیں پچھلی جاتی ہیں تو کچلی جائیں اپنے مفادات مرتے ہیں تو مرنے دیں ان کی پرواہ نہ کریں۔اس جلسہ کے مفادات کو اپنے مفادات پر ترجیح دیں۔پھر دیکھیں کہ اللہ آپ پر کس قدر مہربان ہوتا ہے۔ہمارا خدا اتنا مہربان آقا ہے، اتنا رحم کرنے والا اور اتنا کرم کرنے والا خدا ہے کہ کوئی تھوڑا سا بھی اس کی راہ میں خرچ کرتا ہے یا تکلیف اٹھا تا ہے تو خدا تعالیٰ صرف اسی کو نہیں نو از تا۔بعض دفعہ اس کی سات پشتوں تک کو آرام پہنچاتا ہے۔پس ایسے پیارے خدا سے منہ موڑنا اور اس سے بے وفائی کرنا اور توکل علی اللہ میں کمی کرنا سراسر نقصان ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔بیرونی جماعتوں کو بھی چاہئے کہ جلسہ پر آنے والے دوستوں کو وہ پہلے سے سمجھا ئیں اور اپنے طور پر بھی انتظام کریں کہ کسی ضلع سے یا کسی بڑے شہر سے آنے والے جلسہ کی برکتوں سے غافل اور محروم نہ رہیں بعض لوگ بعض اچھے مقرر کی تقریر سننے کی خاطر جلسہ گاہ پہنچ جاتے ہیں۔انہوں نے پروگرام پر با قاعدہ نشان لگائے ہوتے ہیں کہ فلاں تقریر میں بیٹھنا ہے اور فلاں میں نہیں بیٹھنا کیونکہ فلاں مولوی صاحب بور تقریر کرتے ہیں اور فلاں مولوی صاحب دلچسپ تقریر کرتے ہیں۔حالانکہ یہ