خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 330 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 330

خطبات طاہر جلد اول 330 خطبه جمعه ۱۰/دسمبر ۱۹۸۲ء پیش کیا۔روٹیاں جو پکی ہوئی تھیں وہ پیش کر دیں۔سالن پیش کر دیا۔جب وہ روٹیاں لے کر باہر اپنے مسکن کی طرف جانے لگے تو اس گھر والے کا کتا پیچھے پڑ گیا۔کاٹنے کے لئے نہیں بلکہ روٹی کی خوشبو کی وجہ سے اس کی بھوک بھی تیز ہوگئی اور اس کے اندر بڑا ہیجان پیدا ہو گیا اور زبان نکال نکال کر کبھی ان کے کپڑے چاھتا اور کبھی بھونکنے لگتا تھا چنانچہ انہوں نے آدھی روٹیاں کتے کو ڈال دیں۔ابھی وہ تھوڑی دور ہی گئے تھے کہ کتا روٹیاں کھا کر پھر ان کے پیچھے بھونکنے لگ گیا۔اس وقت انہوں نے جس طرح انسان جانوروں سے باتیں کرتا ہے۔یہ تو نہیں ہوتا کہ جانور باتیں سمجھتا ہے لیکن پھر بھی آدمی بعض جانوروں سے باتیں کرتا ہے سو اسی طرح) کتے سے کہا تو بڑا حریص جانور ہے۔تیرے مالک سے جو کچھ میں نے لیا تھا اس میں سے آدھا تجھے دے دیا ہے لیکن تو پھر بھی میرا پیچھا نہیں چھوڑتا۔تو بہت ہی حریص ہے۔بڑی ہی گندی قسم کا جانور ہے۔اس پر ان پر کشفی حالت طاری ہوئی اور انہوں نے دیکھا کہ کتا ان کو یہ جواب دیتا ہے کہ میں حریص ہوں یا تو حریص ہے؟ میں تو کئی کئی دن کا فاقہ کرتا ہوں مگر اپنے مالک کا دروازہ نہیں چھوڑا کرتا۔ابھی بھی اپنے مالک ہی کی روٹیوں کی خاطر تیرے ساتھ لگا ہوا ہوں تو اپنے گھر سے تو نہیں لے کر آیا تھا۔لیکن تم عجیب آدمی ہو۔تمہارے مالک نے تم پر اتنے احسان کئے لیکن تم تین دن کا فاقہ برداشت نہیں کر سکے اور میرے مالک کے دروازے پر آ گئے۔جو نہی یہ کشفی حالت دور ہوئی انہوں نے ساری روٹیاں وہیں پھینک دیں اور بے اختیار روتے چلاتے اور گریہ وزاری کرتے ہوئے اپنے غار کی طرف لوٹے اور خدا کے حضور دعائیں کرنے لگے کہ اے اللہ تو مجھے معاف فرما۔میں تو ایک کتے سے بھی زیادہ ذلیل نکلا۔وہاں پہنچے تو دیکھا ایک ہجوم خلائق کھڑا تھا وہ ان کا انتظار کر رہا تھا اور پریشان تھا کہ یہ کہاں چلے گئے۔لوگ ان کی خاطر دنیا جہان کی نعمتیں لے کر حاضر تھے پس تو کل کرنے والے کو خدا کبھی ضائع نہیں کرتا۔لیکن تو کل کرنے والے پر امتحان بھی آتے ہیں۔اگر آپ امتحانوں میں ثابت قدم رہیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو بے شمار نعمتوں سے نوازے گا لیکن یہ ہوہی نہیں سکتا کہ تو کل کرنے والا ضائع کر دیا جائے۔پس چھوٹی چھوٹی تجارتوں کی خاطر یہ دو تین دن کے چند گھنٹوں کے رزق کے خوف سے اگر آپ دکانیں کھلی رکھیں گے تو یہ تو کل تو در کنار ویسے بھی بہت گری ہوئی بات ہو گی۔اتنی دور سے لوگ جلسہ کی خاطر آتے ہیں۔لیکن آپ کی دکانیں انہیں اپنی طرف بلاتی ہیں اور ان کے ایمان کیلئے