خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 329
خطبات طاہر جلد اول 329 خطبه جمعه ۱۰ ردسمبر ۱۹۸۲ء دکانیں بند کرتے ہیں تو پھر اپنے رب پر یہ بدظنی کرنا کہ کوئی دوسرا آدمی ہمارا رزق ماردے گا یا جو رزق ہمارے مقدر کا تھا وہ کوئی اور عدم تعاون کرنے والا لے جائے گا اس سے بڑی بیوقوفی اور کیا ہوسکتی ہے۔تو کل ایک بڑی بنیادی صفت ہے۔جو لوگ تو کل اختیار کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔آزمائشیں تو آتی ہیں اور یہ تو کل کا حصہ ہوتی ہیں۔تو کل کے فلسفہ کے اندر آزمائشیں داخل ہیں۔اگر تو کل سے یہ مراد ہو کہ ادھر فوراً کچھ چھوڑا اور خدا پر توکل کیا ادھر فور اوہ چیز میسر آ گئی۔یہ تو پھر دنیا کا قانون بن جائے گا۔پھر تو ہر دنیا دار بھی اس تو کل کی طرف دوڑے گا۔اس لئے اللہ کے بندوں کو دوسرے بندوں سے ممتاز کرنے کے لئے تو کل میں کچھ خفا ء بھی ہوتا ہے۔کچھ پردے بھی ہوتے ہیں۔کچھ آزمائشیں بھی ہوتی ہیں۔لیکن انجام کار تو کل کرنے والے دوسروں کی نسبت کبھی پیچھے نہیں رہا کرتے۔ہر بات میں آگے بڑھ جاتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بڑے بڑے تو کل کرنے والوں کے لئے بھی خدا نے امتحان رکھے ہوتے ہیں۔تذکرۃ الاولیاء میں ایک ایسے ہی تو کل کرنے والے کا ذکر ہے۔کہتے ہیں ایک بزرگ عبادت کے لئے دنیا کو حج کے ایک غار میں جا کر پناہ گزین ہو گئے۔ان کا تو کل یہ تھا کہ انہوں نے اپنے دل میں یہ فیصلہ کیا کہ مجھے بھوک چاہے کتنا بھی ستائے میں اس جگہ کو چھوڑ کر باہر دنیا کے سامنے روٹی مانگنے کے لئے نہیں نکلوں گا۔جو کچھ مانگنا ہوگا اسی غار میں اپنے رب سے مانگوں گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کر دیا کہ لوگ جوق در جوق وہاں حاضر ہونے لگے۔ہر قسم کی نعمتیں اسی غار میں ان کو پہنچنے لگیں۔اس بزرگ نے تو کل کا بہت پھل کھایا۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو نازل ہوتے دیکھا اور عبادت میں اور ترقی کی یہاں تک کہ آزمائش کرنے والے نے آزمائش کا وقت بھی لا کھڑا کیا۔خدا تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا کہ اس بزرگ کی کچھ آزمائش بھی ہونی چاہئے جو دنیا کی نظر میں ایک بہت بڑا مقام بنا چکا ہے۔چنانچہ ایک وقت آیا جب ان کے لئے ہر روٹی لانے والے اور ہر تحفہ لانے والے نے خیال کیا کہ اتنے لوگ وہاں جاتے ہیں آج میں نہ گیا تو کیا فرق پڑتا ہے۔چنانچہ اس دن خدا تعالیٰ کے فرشتوں نے ہر شخص کو وہاں کچھ پہنچانے سے روک دیا۔دو پہر کو بھی کوئی نہ آیا۔رات کو بھی کوئی نہ آیا۔دوسرے دن صبح کو بھی کوئی نہ آیا شام کو بھی کوئی نہ آیا۔ان کو تین دن کا فاقہ پڑا۔آخر بے قرار ہو گئے اور اس غار کو چھوڑ کر ایک دوست کے پاس پہنچے۔اس نے جب دیکھا کہ ان کا یہ حال ہے تو بڑی معذرت کی اور جو کچھ گھر میں حاضر تھا