خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 328
خطبات طاہر جلداول 328 خطبه جمعه ۱۰ ردسمبر ۱۹۸۲ء برداشت کرتے ہیں۔سفر کی صعوبتیں اٹھاتے ہیں سب احمدی جانتے ہیں کہ ریلوے کی طرف سے اب وہ سہولتیں مہیا نہیں ہوتیں جس طرح پہلے ہوا کرتی تھیں۔ریلوے کی اپنی مشکلات ہوں گی۔دوسرے جو ذرائع مواصلات ہیں ان کی بھی مشکلات ہوں گی۔لیکن ہمیں یاد ہے جس طرح پہلے ایک مثالی تعاون ملا کرتا تھا ویسا تعاون اب نہیں ملتا۔تو اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ بڑی مصیبت کے ساتھ ڈبوں میں ٹھس کر لوگوں کو سفر کرنا پڑتا ہے۔بچے بیمار ، روتے ، بلکتے ساتھ لے کر آتے ہیں۔غرض بیچارے آنے والے بہت تکلیفیں اور بڑی مصیبتیں اٹھاتے ہیں۔تو یہ سب کچھ کرنے کے بعد یہاں آ کر بجائے اس کے کہ جلسہ میں حاضر ہوں اور اس سے استفادہ کریں بازاروں کی رونق بن جائیں تو پھر تو یہ بڑے گھاٹے کا سودا ہے۔اس کی طرف بھی توجہ کی ضرورت ہے۔بازار والوں کو بھی چاہئے کہ وہ ایسے مواقع پر دکانیں بند کر دیا کریں لیکن یہ جو غیر ذمہ داری کارجحان ہماری قوم میں پایا جاتا ہے اس نے بڑی مصیبت ڈالی ہوئی ہے۔دو تین ریڑھی والے جب دکان لگا لیتے ہیں تو دیکھا دیکھی سارے دکانیں کھول کر کا روبار شروع کر دیتے ہیں۔یہ خوف ہر ایک کے دامنگیر ہو جاتا ہے کہ میرا رزق نہ مارا جائے یہ سب کچھ کما کر لے جائے گا۔یہ دراصل تو کل کی کمی کا نتیجہ ہے۔وہ دکاندار جو خدا کی خاطر دکانیں بند کرتے ہیں چاہے سارا بازار بھی کھلا ہو، ان کا رزق نہیں مارا جا سکتا۔اللہ رازق ہے۔اسی جمعہ کے تعلق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَانُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (الجمع : ١٠) کہ جمعہ کے دن جب تمہیں خدا کے ذکر کی طرف بلایا جاتا ہے تو اپنی دکانیں اور اپنے کاروبار بند کر دیا کرو تم یہ سمجھتے ہوگے کہ یہ نقصان کا سودا ہے۔تم گھبراؤ گے لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ کاش ! تمہیں علم ہوتا یہ تمہارے لئے بہت ہی بہتر کام ہے کہ خدا کی خاطر اپنی تجارتیں ٹھپ کر دو۔پھر آخر پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اللهُ خَيْرٌ الرّزِقِینَ۔کہ رازق تو اللہ ہے اور اللہ ہی سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔پس جب یہ تسلیم ہے کہ رازق اللہ ہی ہے اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خدا کی خاطر ہم اپنی