خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 319
خطبات طاہر جلد اول 319 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء بابرکت ہے جہاں سے یہ اٹھتی ہے اور وہ کنارا بھی بابرکت ہے جہاں یہ پہنچتی ہے۔دعا کرنے والے کو قبولیت دعا سے پہلے دعا کی کچھ برکتیں نصیب ہو جاتی ہیں۔کیونکہ دعا کرنے والے کے دل میں ایک عظمت پیدا ہو جاتی ہے۔دعا اس کے اندر اپنے پیچھے ایک سچائی چھوڑ جاتی ہے۔اس کے اندر بعض ایسی اعلیٰ صفات پیدا کر جاتی ہے کہ ابھی قبول بھی نہیں ہوئی ہوتی اور اپنی برکتیں عطا کر دیتی ہے۔پھر جب دعا عرش الہی کے کنگروں تک پہنچتی ہے تو بے انتہائی برکتیں لے کر نازل ہوتی ہے تو جس کے دونوں کنارے با برکت ہوں اس سے کیوں فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ایسی دعاؤں کے نتیجے میں حاصل ہونے والی برکتوں سے جماعت احمدیہ کو بے انتہاء فوائد پہنچیں گے۔حقیقت یہ ہے کہ جس طرح خدا تعالیٰ قرآن کریم میں دنیا کی یا کائنات کی مثالیں پیش کر کے الہی مضامین بیان فرماتا ہے ، اسی طرح دعا پر بھی غور کریں تو دنیا میں اس کی ایک بڑی عجیب مثال نظر آتی ہے۔جب پانی سے بخارات اٹھتے ہیں تو وہ بجلی کی ایک قوت سمندر میں چھوڑ جاتے ہیں اور ایک دوسری قوت آسمان میں لے جاتے ہیں۔یعنی اٹھتے وقت بھی قوت پیدا کر جاتے ہیں اور جہاں پہنچ رہے ہیں وہاں بھی قوت پیدا کر دیتے ہیں۔بجلی کی ایک قسم مثبت یا منفی ( کہیں مثبت، کہیں منفی) سمندر کی سطح پر رہ جاتی ہے اور ایک قوت اٹھ کر آسمان پر چلی جاتی ہے اور دونوں مختلف سطحوں سے مختلف قسم کی قو تیں اٹھ رہی ہوتی ہیں۔کہیں سے مثبت اٹھ رہی ہے۔کہیں سے منفی۔کہیں منفی پیچھے رہ رہی ہے، کہیں مثبت پیچھے رہ رہی ہے نتیجہ سارا آسمان قوت سے بھر جاتا ہے۔اور پھر جب بجلی کی وہ طاقتیں ایک دوسرے کے ساتھ عمل کرتی ہیں تو اس کے نتیجے میں فضلوں کی وہ بارش پیدا ہوتی ہے جو آپ دیکھتے ہیں۔کچھ اسی قسم کا نظام میں نے دعا کا بھی دیکھا کہ جب دعا خلوص کے ساتھ اور سچائی کے ساتھ دل سے اٹھتی ہے تو ایسی دعا انسان کو پاک کر دیتی ہے انتظار نہیں کرواتی کہ میری قبولیت کا انتظار کرو۔اس کی ساری محنت کا بلکہ اسکی محنت سے کہیں بڑھ کر پھل اس کو عطا کر جاتی ہے۔پھر جب وہ فضل بن کر نازل ہوتی ہے تو انسان کہتا ہے کہ یہ تو فضل ہی فضل ہے میری دعا تو میرا اجر اور پھل مجھے دے گئی تھی۔جو کچھ ہے محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔