خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 308 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 308

خطبات طاہر جلد اول 308 خطبه جمعه ۳ / دسمبر ۱۹۸۲ء کسی قربانی سے پیچھے رہنے والی جماعت نہیں ہے نظام جماعت کے جو کارندے ہیں بعض دفعہ ان میں کمزوری پیدا ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں جماعتیں چندوں میں پیچھے رہنا شروع ہو جاتی ہیں۔یہاں تک کہ غفلت کی حالت میں بعض دفعہ واقعہ وہ اتنا پیچھے رہ جاتی ہیں کہ پھر مزید ذمہ داری کا اٹھانا ان کیلئے بوجھ بن جاتا ہے۔ذمہ داری نہیں رہتی۔یہ جو حالت ہے اس میں لازماً ایک حصہ اس نظام سے بھی تعلق رکھتا ہے جس کا فرض تھا کہ ہر سال جماعت کو بیدار کرتار ہے اور جھنجھوڑتا رہے اور یاد کراتا رہے کہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے اور تم اسکی ادائیگی میں پیچھے رہ رہے ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ اس منصوبے کے جو اعلیٰ مقاصد ہیں ان کو جس طرح کھل کر بار بار جماعت کے سامنے پیش ہونا چاہئے تھا اس کا کوئی موقع نہیں آیا۔یعنی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے ابتداء ہی میں جو منصوبہ کھول کر پیش کیا تھا اسکے سارے نقوش چھپ چکے ہیں لیکن وہ ایسی صورت میں چھپے ہیں کہ جس طرح اخبار الفضل جماعت کے سامنے پیش کرتا ہے یا دوسرے رسائل اس طرح وہ جماعت کے سامنے بار بار نہیں آسکے جس طرح ان کا حق تھا۔وہ یا شوری کی کارروائی میں پڑے ہوئے ہیں۔یا منصوبہ بندی کمیشن کے سامنے جو ہدایات ہیں یا کمیشن کی سوچ و بچار کے جو نتائج ہیں وہ ان کی فائلوں میں دبے پڑے ہیں۔تو جماعت کے سامنے کھل کر بار بار یہ بات پیش نہیں ہوئی کہ یہ یہ کام ہیں جن پر اتنا خرچ آنا ہے اور تمہاری غفلت یا نیند نے اب تک یہ نقصان پہنچا دیا ہے۔منصوبہ بندی کے سارے کوائف تو میں آپکے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔لیکن خلاصہ چند باتیں میں نے نوٹ کی ہیں جو میں اس وقت آپکے سامنے رکھنی چاہتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ کتنے عظیم مقاصد ہیں جن کیلئے یہ روپیہ خرچ ہونا ہے اور بعض ضرورتیں کتنی تیزی کے ساتھ سامنے آکھڑی ہیں اور اگر ان کی طرف فوری توجہ نہ دی گئی تو پھر اتنا وقت ہی نہیں رہیگا کہ انکی طرف توجہ دی جا سکے۔جلسہ سالانہ قریب آنیوالا ہے اس لئے ہم یہاں سے بات شروع کرتے ہیں۔جب سوسالہ جلسہ سالانہ ہو گا تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ساری دنیا سے کس طرح جوق در جوق احمدی پروانوں کی طرح جلسہ پر حاضر ہونگے اور جلسے کی یہ شکل تو نہیں رہے گی جو اس وقت ہے۔اس کے انتظامات ہر پہلو سے کئی گنا پھیل جائیں گے۔عمارتوں کے تقاضے ہیں۔نئی جلسہ گاہ بنانے کے تقاضے