خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 300
خطبات طاہر جلد اول 300 خطبه جمعه ۲۶ نومبر ۱۹۸۳ء رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِير (القصص: ۲۵) کہ اے خدا ! میں تو فقیر بنا بیٹھا ہوں اس چیز کا جو تو مجھے عطا کرے۔یہی بات ایک اچھی ادا کی شکل میں مغربی تہذیب میں اس رنگ میں پائی جاتی ہے (جس قوم میں بھی کوئی اچھی بات ہو اسے سراہنا چاہئے ) مغربی قوموں میں یہ رواج ہے کہ جب کوئی ان کو تحفہ دیتا ہے تو جس فرد کو تحفہ دیا جاتا ہے وہ آگے سے یہ جواب دیتا ہے کہ آپ نے ایسا تحفہ دیا کہ بالکل اسی چیز کی مجھے ضرورت تھی، میں آپ کا بہت ممنون ہوں۔یہ جواب تو دراصل خوش کرنے کے لئے ایک رسمی جواب ہے لیکن اس کے پیچھے جو فلسفہ کارفرما ہے وہ بالکل درست ہے۔اگر کسی کو یہ کہا جائے کہ جو کچھ آپ نے مجھے دیا ہے مجھے اس کی ضرورت تھی تو اس سے زیادہ خوشی اس کو نہیں پہنچ سکتی کہ اسے یہ احساس ہو کہ بعینہ اس کی مرضی اور ضرورت کے مطابق میں نے اسے کوئی چیز دے دی ہے۔پس دنیا کی تہذیبوں میں بھی یہ بات اچھی لگتی ہے لیکن ویسے حقیقت سے عاری ہوتی ہے۔شاذ و نادر ہی کبھی اتفاقا کسی کو کوئی ایسا تحفہ ملتا ہوگا جس کی اسے ایسی ضرورت ہو کہ گویا اسی کے انتظار میں بیٹھا ہے لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ تحفہ قبول کرنے کا اصل مزہ اور تحفہ دینے والے کے شکریہ کا بہترین اظہار یہی ہے کہ انسان کہے کہ مجھے اس کی ضرورت تھی۔لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ دیکھنے سے قبل کہ خدا نے کیا دیا ہے یہ فقرہ کہا کیونکہ وہ تو یہ جانتے تھے کہ میں اپنے رب سے ایسا پیار کرتا ہوں کہ یقیناً پوری سچائی کے ساتھ میں اپنے رب سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ جو کچھ تری طرف سے آئے گا مجھے اس کی ضرورت ہے، میں اس کا فقیر بنا بیٹھا ہوں۔پس جب انسان کسی سے ایسے محبت کرے کہ اس کی ہر عطا اس کی ضرورت بن چکی ہو گویا اسی کے انتظار میں بیٹھا تھا تو ہر تمنا پوری ہوئی کہ نہ ہوئی اور کوئی تمناماری نہیں جا رہی۔ایسی تعلیم نہیں دی جارہی جو انسانی فطرت کے خلاف ہو یعنی یہ کہ تمناؤں سے عاری ہو جاؤ بلکہ یہ فرمایا جا رہا ہے کہ تمناؤں کو مغلوب کر دو ایک اعلیٰ تمنا کے حصول میں۔یعنی تم اگر اللہ کے ہو جاؤ تو تمہیں ہر دوسرے سے آزادی نصیب ہو جائے گی۔مرد آزاد کا اس سے بہتر اور کوئی تصور نہیں کہ رب کی غلامی کے بعد ہر دوسری غلامی سے انسان آزاد ہو جائے۔اور وہ اس طرح کہ اس کی تمنا انسان کی ہر دوسری تمنا پر غالب آجائے کیونکہ اس کے بغیر آزادی حاصل ہو ہی نہیں سکتی جب تک تمناؤں کو ایک اعلیٰ تمنا سے