خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 26
خطبات طاہر جلد اول 26 26 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء پڑیں۔آنسو جاری ہو گئے ووجلت منها القلوب اور ہمارے دلوں پر ایک لرزہ طاری ہو گیا۔میرے باپ نے اس پر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ وعظ تو یوں معلوم ہوتا ہے جیسے وداع کا وعظ ہے۔گویا آپ ہم سب سے رخصت ہونے کے قریب ہیں تو آپ ہمیں کوئی ایسی نصیحت فرمائیے جس کو ہم پکڑ کر بیٹھ ر ہیں۔کوئی ایسی بات کہیں جس عہد پر ہم ہمیشہ قائم ہو جائیں۔تو آنحضرت ﷺ نے جواب میں صرف اتنا فرمایا أُوصِيكُمُ بِتَقْوَى اللهِ وَالسَّمْعِ وَالطَّاعَةِ ( ترندی ابواب العلم باب ما جاء فى الاخذ بالسنۃ واجتناب البدع ) کہ میں تمہیں اللہ کے تقویٰ کی نصیحت کرتا ہوں اور یہ نصیحت کرتا ہوں کہ جب سنا کرو تو اطاعت کیا کرو۔اور سننے اور اطاعت کے درمیان کوئی حیل و حجت داخل نہ ہونے دیا کرو۔وَالسَّمْعُ وَالطَّاعَةُ کا مطلب یہ ہے کہ سننا اور اطاعت کرنا اور کیوں اور کس لئے کی بحثیں نہ اٹھانا۔پس آنحضرت علیہ نے ایک ایسے وقت میں جو خاص رقت کا وقت تھا اور جدائی کے لمحات قریب تھے، ہمیشہ کیلئے سب سے زیادہ بنیادی، سب سے زیادہ قائم اور دائم رہنے والی اور قائم اور دائم رکھنے والی جو نصیحت بیان فرمائی وہ تقویٰ کی تعلیم تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے موضوع پر بہت کچھ فرمایا نثر کی صورت میں بھی اور نظم کی صورت میں بھی۔میں ایک نثر کا اقتباس اور ایک نظم کا اقتباس آپ کے سامنے رکھ کر اس خطبے کو ختم کروں گا۔حقیقی تقویٰ اپنے ساتھ ایک نور رکھتی ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ آپ فرماتے ہیں: فرماتا ہے: ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اِنْ تَتَّقُوا اللهَ يَجْعَل لَّكُمْ فُرْقَانَّا قَ يُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيَّاتِكُمْ (الانفال:۳۰) وَيَجْعَل لَّكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِه (الحديد (۳۹) یعنی اے ایمان لانے والو! اگر تم متقی ہونے پر ثابت قدم رہو اور اللہ تعالیٰ کے لئے اتقا کی صفت میں قیام اور استحکام اختیار کرو تو خدا تعالیٰ تم میں اور