خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 288 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 288

خطبات طاہر جلد اول 288 خطبه جمعه ۱۹/ نومبر ۱۹۸۲ء۔جہاں تک میرا نظری جائزہ ہے میں سمجھتا ہوں ربوہ کی پوری آبادی جمعہ میں بھی حاضر نہیں ہوتی۔ربوہ کی آبادی ہمیں معلوم ہے اور جتنے فیصد لوگوں کو مسجد میں پہنچنا چاہئے اتنے یہاں نظر نہیں آتے۔چونکہ ہمارا موازنہ جیسا کہ میں نے پہلے بھی بیان کیا تھا، دوسری سوسائٹیوں سے نہیں ہے بلکہ ہمارے معیار بہت بلند ہیں۔ہماری ذمہ داریاں بہت وسیع ، بہت اہم ، بہت گہری اور بہت بھاری ہیں۔اس لئے ان کی ادائیگی کے لئے بھی ہمیں اسی قسم کی تیاریاں کرنی پڑیں گی اور نماز کے قیام کے بغیر ہم دنیا کی تربیت کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے۔اس لئے جمعہ کی نماز میں بھی حاضری کو بڑھانا چاہئے اور اس کے لئے بھی گھروں میں تلقین کرنی پڑیگی۔صدران محلہ جات اور زعماء انصار اللہ کا فرض ہے کہ بجائے اس کے کہ وہ صرف مسجدوں میں نماز کی تلقین اور یاد دہانی کا پروگرام بنائیں ، اگر کوئی ایسے گھر ہیں جو مسجد میں نہیں آتے تو گھروں میں جائیں اور گھر والوں سے ملیں اور ان کی منت کریں اور ان کو سمجھائیں کہ تمہارے گھر بے نور اور ویران پڑے ہیں۔کیونکہ جو گھر ذکر الہی سے خالی ہے وہ ایک ویرانہ ہے اور جس گھر میں بے نمازی پیدا ہور ہے ہیں وہ تو گویا آئندہ نسلوں کے لئے ایک نحوست کا پیغام بن گیا ہے اس لئے ہوش کرو اور اپنے آپ کو سنبھالو اور نمازوں کی طرف توجہ کرو اس سے تمہاری دنیا بھی سنورے گی اور تمہارا دین بھی سنورے گا کیونکہ عبادت میں ہی سب کچھ ہے۔عبادت پر قائم رہو گے تو خدا کے حقوق ادا کرنے والے بھی بنو گے اور بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی بنو گے۔پس یہ نصیحت گھروں کے دروازوں تک پہنچانی پڑے گی اور بار بار وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا کا نقشہ پیش کرنا پڑے گا۔یعنی جو بھی یہ عہد کرے کہ میں گھروں میں نماز کا پیغام پہنچاؤں گا اور گھر والوں کو تاکید کروں گا اور ان کو ہوش دلاؤں گا کہ وہ اپنے بچوں کی حفاظت کریں ، اس کو یہ نیت بھی کرنی پڑے گی کہ میں پختہ عزم اور مستقل مزاجی کے ساتھ یہ کام کروں گا کیونکہ ایسا کہنا تو آسان ہے لیکن اس پر عمل بہت مشکل ہوگا۔وجہ یہ کہ چند دنوں کے بعد انسان پر غفلت غالب آجاتی ہے اور وہ اس کام کو جو اس نے شروع کیا ہوتا ہے چھوڑ بیٹھتا ہے۔اس لئے اگر نتیجہ حاصل کرنا ہے تو وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا کے مضمون کو پیش نظر رکھنا ہوگا۔جب تک خدا تعالیٰ کی اس واضح تلقین کو ہمیشہ مدنظر نہ رکھا جائے کہ نماز کی تلقین میں صبر اور دوام اختیار کرنا چاہیئے اس وقت تک ہم اعلیٰ مقصد کو حاصل نہیں کر سکیں گے۔