خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد اول 287 خطبه جمعه ۱۹/ نومبر ۱۹۸۲ء نمازوں کی حفاظت نہ کی تو خطرہ ہے کہ آگے بے نمازی پیدا ہونے نہ شروع ہو جائیں۔اس لئے ہمیں غیر معمولی جہاد کی روح کے ساتھ نماز کے قیام کی کوشش کرنی چاہیئے اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہ جہاد گھروں سے شروع ہو گا۔اب جلسہ سالانہ کے ایام قریب آرہے ہیں اور ربوہ کے گھروں کو خدا تعالیٰ ایک غیر معمولی حیثیت عطا کرنے والا ہے وہ گھر جو نمازی گھر ہیں ان کا فیض دنیا کے کناروں تک پہنچ جائے گا۔دور دور سے آنے والے جو لوگ ان کے ہاں ٹھہریں گے وہ ان سے نیک نمونہ پکڑیں گے اور ان آنے والوں میں سے اگر کوئی بے نمازی بھی ہوں گے تو یہ گھر ان کو نمازی بنادیں گے۔لیکن اس کے ساتھ ایک یہ خطرہ بھی ہے کہ اگر وہ گھر جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان ٹھہرتے ہیں، بے نمازی ہوں تو ہو سکتا ہے کہ یہ ان مہمانوں کی عادتیں بھی بگاڑ دیں اور ان کو بھی نمازوں سے غافل کر دیں۔اس طرح ان گھروں کی حالتِ بے نمازی بھی زمین کے کناروں تک پہنچ سکتی ہے۔یعنی ایک طرف وہ اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں حاصل کر سکتے ہیں تو دوسری طرف ان رحمتوں سے محرومی کی بھی کوئی حد نہیں رہتی۔پس خصوصیت کے ساتھ اپنے گھروں کو اس طرح بھی سجائیں کہ وہ عبادت اور ذکر الہی سے معمور ہو جائیں۔جب مہمان آتے ہیں تو ان کے لئے گھروں کو سجایا جا تا اور انہیں زینت بخشی جاتی ہے۔میں نے ایک خطبہ جمعہ میں اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ربوہ کو ایک غریب دلہن کی طرح سجانا چاہیے لیکن مومن کی اصل سجاوٹ تو تقویٰ کی سجاوٹ ہے، نماز کی سجاوٹ ہے۔خُذُوا زِينَتَكُمُ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ (الاعراف: ۳۲) میں یہی اشارہ کیا گیا ہے کہ اصل زینت تو وہ ہے جو نمازوں کے ساتھ پیدا ہوتی ہے۔نمازیں سنوارو گے تو مسجدیں بھی زینت اختیار کر جائیں گی۔لیکن اگر بغیر سنوارے کے نمازیں پڑھو گے تو تمہاری مسجدیں بھی ویران ہو جائیں گی۔پس اپنے گھروں کو زینت بخشو مہمانوں کے استقبال کی تیاری کرو۔اللہ کے ذکر کو گھروں میں بھی کثرت سے بلند کرو اور بار بار بچوں کو بھی اس کی تلقین کرو تا کہ ہر گھر خدا کے ذکر کا گہوارہ بن جائے اور ہر مہمان جو آپ کے ہاں ٹھہرے، وہ اگر کمزور بھی ہے تو آپ کی مثال سے طاقت پکڑے اور ذکر الہی کی طاقت لے کر یہاں سے واپس لوٹے۔