خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 286 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 286

خطبات طاہر جلد اول 286 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۸۲ء کرسی جس پر بیٹھ کر مریض خود اپنے ہاتھوں سے اس کے پہلے گھماتا ہے ) رتن باغ لاہور میں جہاں نمازیں ہوتی تھیں ، (اس وقت مسجد نہیں تھی اس لیے رتن باغ کے صحن میں نماز میں ہوا کرتی تھیں ) باقاعدگی کے ساتھ وہاں پہنچا کرتے تھے ۔ جب مسجد گھر سے دور ہو گئی تو اپنے گھر کو مسجد بنالیا اور ارد گرد کے لوگوں کو دعوت دی کہ تم پانچوں وقت نماز کے لیے میرے گھر آیا کرو۔ اور مسجد کے جس قدر حقوق عائد ہوتے ہیں ، ان سب کو ادا کرتے تھے ۔ یعنی جب انہوں نے یہ اعلان کیا کہ میرا گھر مسجد ہے تو پانچوں نمازوں کے لیے آپ کے گھر کے دروازے کھلے رہتے تھے۔ صبح کے وقت نمازی آتا تھا تو دروازے کھلے ہوتے تھے۔ رات کو عشاء کی نماز کے لیے آتا تھا تب بھی دروازے کھلے ہوتے نا تھے اور دو پہر کو بھی دروازے کھلے رہتے تھے۔ پھر نمازیوں کے لیے وضو کا انتظام تھا اور دیگر سہولتیں بھی مہیا تھیں ۔ یہ سب کچھ آپ اس لئے کرتے تھے کہ آپ کو نماز با جماعت سے ایک عشق تھا اور یہ پسند نہیں کرتے تھے کہ کسی حالت میں بھی آپ کی کوئی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے سے رہ جائے چنانچہ آپ کی اولاد میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے نماز کی بڑی پابندی پائی جاتی ہے۔ یہ صرف ایک نمونہ ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ اسی قسم کے ہزار ہا نمونے قادیان میں رہنے والوں کی یادوں میں بس رہے ہونگے ۔ نماز کا اتنا شوق پایا جاتا تھا اور اس کی اتنی تربیت تھی کہ قادیان کے پاگل بھی نمازی رہتے تھے ایسے پاگل جو دنیا کی ہر ہوش گنوا دیتے تھے۔ وہ نماز پڑھنے کے لئے اکیلے مسجدوں میں پہنچ جایا کرتے تھے۔ نماز پڑھنے کی عادت ان کی زندگی میں ایسی رچ بس گئی تھی کہ وہ اس سے الگ ہو ہی نہیں سکتے تھے۔ ایسے ہی ایک راجہ اسلم صاحب ہوا کرتے تھے۔ جب پاگل پن کی انتہاء ہو گئی تو بیچارے گھر سے باہر چلے گئے ۔ پاگل پن میں جو بھی اندرونہ ہو وہ باہر آ جاتا ہے۔ چونکہ ان پر نیکی کا غلبہ تھا اس لئے ( آخری اطلاع کے مطابق ) تبلیغ کے جنون سے غالبا روس کی طرف چلے گئے تھے۔ پھر انہیں دوبارہ کبھی نہیں دیکھا گیا۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان پر کیا گزری ۔ لیکن پاگل پن کے انتہا کے وقت بھی پانچوں نمازوں میں مسجد میں آیا کرتے تھے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے اصحاب کو خدا تعالیٰ نے عبادت کے قیام کی جو توفیق بخشی تھی وہ اگلی نسل یعنی تابعین تک بھی بڑی شدت کے ساتھ جاری رہی ۔ اب ہم ایک ایسی جگہ پہنچے ہیں جہاں تابعین اور تبع تابعین کا جوڑ ہے اور اگر ہم نے اس وقت بشدت اپنی