خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 25
خطبات طاہر جلد اول 25 25 خطبه جمعه ۲۵ جون ۱۹۸۲ء بیک وقت کی سرداری اور بیک وقت کی خادمانہ حالت یہ بھی ایک ایسا اسلامی تصور ہے جس کا باہر کی دنیا میں کوئی تصور نہیں پایا جاتا اور حضرت محمد مصطفی ﷺ نے ہمیں یہ اصول سکھایا اور یہ راز سمجھایا کہ سَيِّدُ القَومِ خَادِمُهُمُ الجها ولا بن المبارک کتاب الجھا دحدیث نمبر 207) اگر تم حقیقتا دنیا کے سردار ہو، اگر خدا کی طرف سے سیادت کا تاج تمہارے سروں پر رکھا گیا ہے تو حق دار اسی وقت تک رہو گے جب تک کہ باقی دنیا کی خدمت میں لگے رہو گے۔اگر خدمت لینے کی خاطر سردار بنے کی کوشش کرو گے تو یہ سرداری تم سے چھین لی جائے گی۔كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ (آل عمران: 11) میں بھی یہی سبق عطا فرمایا گیا کہ تم بہترین امت ہو لیکن اس شرط کے ساتھ کہ لوگوں کی بھلائی اور خدمت کے کام کرتے رہو۔جب تک یہ صفت تم میں باقی رہے گی۔جب تک تم خدمت کی سعادت پاتے رہو گے، اللہ کی نظر میں تم بہترین قوم کہلاتے رہو گے۔جب ان باتوں سے عاری ہو جاؤ گے اور بنی نوع انسان کی بہبود سے مستغنی ہو جاؤ گے تو پھر سرداری کی ردا تم سے چھین لی جائے گی۔پس ہمیں یہ بھی دعا کرتے رہنا چاہئے کہ یہ سعادت جو اللہ تعالیٰ نے آج کے زمانہ میں ہمیں نصیب فرمائی کہ ہم وہ قوم ہیں جو خدا کی نمائندگی کر رہے ہیں ، ہم وہ قوم ہیں جو خدا کی نظر میں زندہ رکھنے کے لائق ہیں اور ہمارے مقابل پر کوئی عددی اکثریت کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی ، ہم اپنی اس حیثیت کو نہ بھولیں کہ یہ سرداری در اصل خدمت کے لئے عطا ہوئی ہے بنی نوع انسان کی بہبود کی خاطر عطا ہوئی ہے ان پر راج کرنے کے لئے نہیں ، ہاں دلوں پر راج کرنے کے لئے ہے۔دلوں کو فتح کرنے کے لئے ہے۔ان پر پیار اور عشق اور محبت کی حکومت کرنے کیلئے ہے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بہترین رنگ میں، اس اصطلاح میں جس اصطلاح میں قرآن باتیں کرتا ہے، ہمیں سیادت عطا فرمائے اور ہمیشہ یہ سیادت قائم اور دائم رکھے۔اس کے بعد میں تقویٰ سے متعلق ایک حدیث نبوی آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعض ارشادات پیش کرتا ہوں جو تقویٰ کی تشریح میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمائے تھے۔عرباض روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت علی ایک دن تشریف لائے تو آپ نے ایک ایسا وعظ کیا جو بہت ہی فصیح و بلیغ تھا۔اس کے نتیجہ میں ذرفت منها العيون ہماری آنکھیں بہنے لگ