خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 280
خطبات طاہر جلد اول 280 خطبه جمعه ۱۹ نومبر ۱۹۸۲ء سکھائی گئی وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ایک سنگم ہے۔اس میں اللہ کے حقوق بھی سکھائے گئے ہیں اور بندے کے حقوق بھی بتائے گئے ہیں۔فرمایا: اِنَّ الصَّلوةَ تَنْهَى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ (اقلیت (۳۹) نماز کا یہ پہلو کہ یہ فحشا اور منکر سے بچاتی ہے، یہ خالصتا بندوں ہی کے حقوق ہیں، جونماز سکھاتی ہے۔جہاں تک حقوق اللہ کا تعلق ہے عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی پیروی کرے۔عبد اس غلام کو کہتے ہیں جو آقا کے تابع ہو جائے۔اس کا اپنا کچھ نہ رہے۔سب کچھ اسکے مالک کا ہو اور وہ اس کے پیچھے پیچھے چلے۔اور یہ جو مضمون ہمیں سکھایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو اور اس کی صفات اختیار کرو، یہی دراصل عبادت کا مفہوم ہے۔کلیتہ اپنے رب کے پیچھے چلنا اور ایک اعلیٰ ذات کی نقل کرنا ان معنوں میں کہ اس کی صفات کا رنگ آہستہ آہستہ اس کے وجود پر چڑھنے لگے، یہ ہے عبادت کا مفہوم۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک اعلیٰ نمونے کے پیچھے چلا جائے تو اس نمونے پر چلنے والے ہی کا فائدہ ہوتا ہے ، نہ کہ اس نمونے کا جس کے پیچھے چلا جاتا ہے۔دنیا کے سامنے ماڈل پیش کئے جاتے ہیں تا کہ لوگ اس ماڈل کے مطابق ڈھلنے کی کوشش کریں۔لیکن اس سے اُس ماڈل کو کیا فائدہ؟ فائدہ تو اس کو ہوتا ہے جو اس ماڈل کے پیچھے چل کر اپنی تزئین کرتا ہے، اپنی بدیاں دور کرتا ہے اور اپنے اندر نیا حسن پیدا کرتا ہے۔پس عبادت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو اور اس ذکر کو اپنے اعمال میں ڈھالنے کی کوشش کرو۔جب اس کو رحمن کہو تو خو درحمانیت کے تقاضے پورے کرنے کی کوشش کر و۔جب اس کو رحیم کہو تو خودرحیم کا مظہر بننے کی کوشش کرو۔جب اس کو قادر کہو تو اپنی قدرتیں بڑھانے کی طرف توجہ دو اور وہ صلاحیتیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی ہیں ان کو اور چمکاؤ۔غرضیکہ صفات باری تعالیٰ کا مضمون جتنا زیادہ انسان پر روشن ہوتا چلا جائے اتنا ہی زیادہ عبادت کا اہل بنتا چلا جاتا ہے اور عبادت کے مقصد کو حاصل کرنے والا بنتا ہے۔پس یہ تصور کہ خدا نے اپنی خاطر بنی نوع انسان کو پیدا کر کے ان کے بڑوں اور چھوٹوں کو اپنے سامنے جھکا دیا محض ایک لغو تصور ہے۔کیونکہ اس میں خدا کا کوئی فائدہ تجویز نہیں کیا جا سکتا۔