خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد اول 279 خطبه جمعه ۱۹/ نومبر ۱۹۸۲ء نمازوں کے حقوق و حفاظت اور سر براہ خانہ و عہدے داروں کا فرض ( خطبه جمعه فرموده ۱۹/ نومبر ۱۹۸۲ء بمقام مسجد اقصیٰ ربوه) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے سورہ مریم کی مندرجہ ذیل آیات پڑھیں: وَاذْكُرْ فِي الْكِتَبِ اِسْمُعِيْلَ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِوَ كَانَ رَسُولًا نَبِيَّان وَكَانَ يَأْمُرُ أَهْلَهُ بِالصَّلوةِ وَالزَّكُوةِ وَكَانَ عِنْدَ رَبِّهِ مَرْضِيًّا (مریم:۵۲-۵۵) اور پھر فرمایا : عبادت وہ مقصد ہے جس کے لئے ، قرآن کریم کے بیان کے مطابق ، جن وانس کو پیدا کیا گیا۔عبادت کے متعلق عموماً یہ خیال پایا جاتا ہے کہ اس کا تعلق محض حقوق اللہ سے ہے اور بعض کھوکھلی اور سطحی سوچ رکھنے والوں نے یہ اعتراض بھی کیا کہ اللہ تعالیٰ نے تو صرف اپنی خاطر اپنے سامنے جھکانے کے لئے بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے۔اس سے ہمیں کیا فائدہ؟ یہ گویا ان کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی خود غرضی ہے۔لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ اگر عبادت کے مفہوم کو حقوق اللہ کے طور پر بھی دیکھا جائے تب بھی تمام تر فائدہ ان بندوں کا ہے جو عبادت کرتے ہیں۔لیکن دراصل عبادت محض حقوق اللہ کا نام نہیں ہے۔عبادت میں حقوق العباد بھی شامل ہیں۔چنانچہ وہ نماز جو ہمیں عبادت کے طور پر