خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 278
خطبات طاہر جلد اول 278 خطبه جمعه ۱۲ نومبر ۱۹۸۲ء پس معاشرہ کی اصلاح کے لئے بڑی محنت کرنی پڑے گی اسے لئے میں جماعت سے یہ کہتا ہوں کہ ان برائیوں کو جڑوں سے نکال دیں۔ محض ایک انسپکٹر کا کہیں چلے جانا اور مصافحے کروادینایا بغل گیریاں کروا دینا کافی نہیں ہے ۔ یہ تو بہت ہی بیوقوفوں والا علاج ہے ۔ اگر اسی پر بس کر دی جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب سب لڑائیاں ختم ہو گئیں ۔ ہر چند یہ بھی ضروری ہے ۔ اس سے انکار نہیں۔ یہ بیوقوفوں والا طریق تب بنتا ہے اگر بس اسی ظاہری علامت پر ہم راضی ہو جائیں ۔ ہمیں تو ان مسائل کی گہرائی تک اتر نا پڑے گا ۔ جڑوں سے اس کینسر کو نکالنا پڑے گا جو فساد اور اختلاف کا اتر گا۔ موجب بنا ہوا ہے۔اس لئے جماعت کے جتنے بھی ادارے ہیں، جتنے بھی مربیان ہیں وہ اس طرف توجہ کریں۔ ماں باپ ، عورتیں کیا ، مرد کیا ، بڑے کیا ، چھوٹے کیا سب ایک جہاد شروع کر دیں اس بات کے خلاف کہ معاشرہ سے ہم حرص و ہوا اور لہو و لعب کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریاں بھی دور کر دیں گے اور تفاخر اور زینت اور تکاثر کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی یہ ساری بیماریاں بھی دور کر دیں گے اور اس ضمن میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے کردار کی پیروی کریں گے محض نصیحت کے ذریعہ نہیں بلکہ ان کا دکھ محسوس کرتے ہوئے ، ان کے بوجھ بانٹتے ہوئے خود اپنی جان کو مشقت میں ڈال کر ان کے لئے دعائیں کرتے ہوئے ، اگر اس طرح آپ بدیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ ضرور دور ہوں گی ورنہ نہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ روزنامه الفضل ربوه ۲۱ نومبر ۱۹۸۲ء)