خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 277 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 277

خطبات طاہر جلد اول 277 خطبه جمعه ۱۲/ نومبر ۱۹۸۲ء ساری طاقتیں دے کر مرد کے بچہ کی پرورش کی ہے اور جب وہ وجود میں آجاتا ہے ، جب اس کی ذمہ داریاں بڑھنی شروع ہو جاتی ہیں تو ایک آرام طلب مرد، آرام کی راہوں پر چلنے والا بڑے آرام سے اس کو کہتا ہے بہت اچھا اب میرا تمہارا گزارا مشکل ہے جاؤ بھاگ جاؤ گھر سے نکل جاؤ۔بہت بھاری تعداد میں معاشرہ اس دکھ میں مبتلا ہے۔اس کے برعکس بعض عورتیں ہیں جن کی زبانیں دراز ہوتی ہیں۔جو گندی تربیت لے کر آئی ہوتی ہیں۔اولا دکو نیکیوں سے محروم کرنے والی ، ان کی بری باتوں کی پردہ پوشی کرنے والی نیکیوں سے باز رکھنے والی ہیں۔نہ خود نماز پڑھتی ہیں نہ نماز کی تعلیم دیتی ہیں۔نہ پاکی ناپاکی کا خیال رکھتی ہیں۔خاوند کی کوئی مدد نہیں کرتیں بلکہ اس کو نیکیوں سے محروم کر کے اس پر بوجھ بن جاتی ہیں اور خاوندان کو گھسیٹے پھرتے ہیں۔بعض ان کو گلے سے اتار بھی دیتے ہیں بعض نہیں اتارتے اور ان کی اولا دیں تباہ ہو جاتی ہیں۔پس معاشرہ کے یہ سارے دکھ ہیں جن سے ہم نے آزاد ہونا ہے۔اور ایسے بہت سے دکھ خود ماؤں کی کوکھ میں جنم لے رہے ہوتے ہیں۔یعنی اگر ایک مرد آپ دیکھیں جو سفاک ہے، جو سخت دل ہے، جو عورت پر زیادتی کرتا ہے، باز نہیں آتا بد کلامی سے کامل لیتا ہے، بیوی کے حقوق ادا نہیں کرتا تو آپ کو اس کے پس منظر میں ایک بچہ نظر آجانا چاہئے جس کی ماں اسے بگاڑ رہی ہوتی ہے۔اس کی بہنوں کے مقابل پر اس بچہ کو معبود بنا رہی ہوتی ہے بیٹے کی پرورش ناز و نعمت سے ہو رہی ہوتی ہے بیٹی کو خود ایسی ماں نظر انداز کر رہی ہوتی ہے۔چنانچہ بچپن میں وہ اپنے بیٹے کے دل میں سفا کی کے بیج ڈال رہی ہوتی ہے۔ناجائز طریق پر اسکی پردہ پوشی کر رہی ہوتی ہے۔اس کو سانڈ بنادیتی ہے۔وہ محلہ کے بچوں پر ظلم کر رہا ہوتا ہے اس کی پرواہ نہیں کرتی۔جب ہمسائی عورتیں شکایت کرتی ہیں تو کہتی ہے جہنم میں جاؤ میرا بچہ تو اسی طرح کرے گا اور میرا بچہ تو بالکل ٹھیک ہے وہ غلطی نہیں کر سکتا۔غرض وہی دکھ ایک لعنت بن کر واپس عورت پر پڑتا ہے جو ماں کی کوکھ سے جنم لے رہا ہوتا ہے اور ایسے بچے جب جوان ہوتے ہیں تو سارے معاشرہ کو عذاب میں مبتلا کر دیتے ہیں۔معاشرہ کے لئے ایک مصیبت بن جاتے ہیں۔عورتوں پر ظلم کرتے ہیں۔بچیوں پر ظلم کرتے ہیں۔بہنوں پر پھر ان ماؤں پر ظلم کرتے ہیں جنہوں نے ان کو بچپن میں ظلم کی تعلیم دی ہوتی ہے۔