خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد اول 249 خطبه جمعه ۲۹ را کتوبر ۱۹۸۲ء ہے خواہ وہ امیر ہے، وہ زینت کی طرف توجہ کرتی ہے اور غریب بھی اپنے گھر کو سجانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ چیز مجھے یورپ کی سیر میں معلوم ہوئی ۔ اسی وقت میں نے اپنے ساتھیوں کو لکھوا دیا کہ ربوہ پہنچ کر یاد کروانا تا کہ ہم بھی اپنے گھروں کے لیے ایسا ہی نظام جاری کریں کہ غریب ہو یا امیر ہو وہ کچھ نہ کچھ سجاوٹ پیدا کرے اور گھر کو خوبصورت بنائے۔ اس سلسلہ میں میں آرکیٹیکٹ اینڈ انجینئر زایسوسی ایشن کو دعوت دیتا ہوں اور ساتھ ہی مجھے ایک اور خیال آیا کہ ایک اور ذمہ داری بھی ان کے سپرد کر دیتے ہیں ۔ جب غربا کے گھروں کی طرف توجہ ہے تو اس کا نقشہ بھی تو بنا چاہئے ۔ بیچارے غریبوں کے پاس تو اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ کسی کو کچھ دے کر اس سے نقشہ بنوالیں ۔ تو نقشے بھی ایسے تجویز کئے جائیں جو مناسب حال ہوں ۔ اور اس ۔ میں اپنی ذہنی صلاحیتوں کو خوب استعمال کریں اور ایسے نقشے تجویز کریں جو دلکش بھی ہوں اور ہمارے ملک کے موسموں کو پیش نظر رکھ کر اچھے بھی ہوں اور نئی ایجادات کی روشنی میں ایسی تجاویز اس میں شامل کی جائیں کہ جو غریبانہ دسترس کے اندر ہوں ۔ پھر ہم ہر ایک کے بنائے ہوئے نقشہ کا مقابلہ کریں گے۔ جس آرکیٹیکٹ کا نقشہ سب سے اچھا ہوگا اسکو میں ایک خاص انعام دوں گا۔ پس انجینئر زایسوسی ایشن کو چاہئے کہ وہ یہ دیکھے کہ ربوہ میں بنایا جانیوالا گھر کیسا ہونا چاہئے ۔ اس کا نقشہ پیش کریں اور اسکی سجاوٹ میں اردگرد درختوں اور سبزہ کی جو رونق ہوتی ہے اس کو بھی ملحوظ رکھیں، یہ بھی دیکھیں کہ سبزہ پیدا کرنا ہے غریبانہ سبزہ ہی سہی۔ جنتر سے ہو جاتا ہے تو جنتر کو شامل کریں۔ غرض چھ ماہ میں ایک غریبا نہ گھر کا نقشہ تیار کر دیں۔ جہاں تک گھروں کی صفائی اور سجاوٹ کا تعلق ہے اب تو بہر حال اتنا وقت نہیں ہے۔ جلسہ قریب آرہا ہے اس لیے اس وقت اگر کوئی سفیدی کر سکتا ہے تو سفیدی کرے۔ کوئی رنگ پھیر سکتا ہے دیواروں پر تو رنگ پھیر دے۔ گھروں کی صفائی کریں اور ان کو سجا ئیں تا کہ جس طرح حضرت خلیفہ لمسیح الثالث ( نور اللہ مرقدہ ) فرمایا کرتے تھے کہ ربوہ ایک غریب دلہن کی طرح رنگ اختیا کر لے، اس طرح سح جائے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی توفیق عطا فرمائے ۔ خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا :