خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 248
خطبات طاہر جلد اول 248 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء پس اس پہلو سے ربوہ والے اپنے گھروں کو خوب بشاشت کے ساتھ پیش کریں۔پہلے بھی کرتے ہیں اس دفعہ اور بھی زیادہ محبت کے ساتھ پیش کریں اور کارکنان بھی اپنی ساری طاقتوں کو مالک یوم الدین کے حضور پیش کر دیں۔بے شمار کام ہوتے ہیں اور جو اس وقت ہمارے پاس عملہ مہیا ہے وہ اتنا تھوڑا ہے کہ حقیقت میں وہ تقاضے پورے نہیں کر سکتا۔محض اللہ کا فضل ہے۔ہر دفعہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح کام ہو گئے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے ہم بہر حال اللہی جماعت ہیں اللہ کی خاطر کام کرتے ہیں۔وہ اپنے فضل سے فرشتوں کے ذریعہ کام پورے کر دیتا ہے۔لیکن خدا کے فضل کو ہم انتہا کی شکل میں اس وقت دیکھتے ہیں جب ہم اپنی قوتوں کو انتہا تک پہنچا دیتے ہیں۔جب ہم اپنی قوتوں کو آدھے راستہ میں چھوڑ دیتے ہیں تو پھر خدا کا فضل بھی آدھے راستے تک رہتا ہے۔اس لیے ہم کوشش کریں گے کہ جس قدر بھی ممکن ہو طوعی طور پر اپنے وقت کو بھی خدا کے حضور پیش کر دیں۔تیسری شکل یہ ہے کہ مہمانوں کے لیے اپنے گھروں کو خوب سجا دیں۔جب آپ کے مہمان آتے ہیں تو آپ اپنے گھروں کو خوب سجاتے ہیں۔اللہ کے مہمان آئیں گے تو کیا آپ اپنے گھروں کو نہیں سجائیں گے۔کیا آپ اپنی گلیوں کو صاف نہیں کریں گے۔کیا خدا کی خاطر آپ یہ خیال نہیں رکھیں گے کہ ربوہ کے بعض محلوں میں رات کو چلتے ہوئے گندی نالیوں میں بھی پاؤں پڑ جاتے ہیں۔گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں ان سے بد بوئیں بھی اٹھتی ہیں۔پس جب آپ اپنے مہمانوں کی خاطر اپنے گھروں کی صفائی کرتے ہیں۔تو اب تو خدا کے مہمان آنے والے ہیں۔اس لیے اپنے گھروں کی بھی صفائی کریں۔اپنی گلیوں کی بھی صفائی کریں۔ان ڈھیروں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں جو بد بو پھیلاتے ہیں اور اس سلسلہ میں جماعت کی جتنی بھی تنظیمیں ہیں وہ ساری تیزی کے ساتھ عملی توجہ شروع کر دیں۔یعنی سکیمیں بھی بنائیں اور پھر ان کو عمل میں ڈھالیں انصار اللہ، لجنہ اماءاللہ اور خدام الاحمدیہ یہ ساری تنظیمیں کام کریں اور جلسہ سالانہ کا نظام اس کی عمومی نگرانی کرے۔اس کے بعد پھر سجاوٹ کا وقت بھی آئے گا۔میرے ذہن میں ایک نقشہ یہ بھی ہے کہ غریب کے مکان کو خوبصورت بھی بنایا جائے اور سجایا بھی جائے لیکن ابھی فورا تو اس کا وقت نہیں۔میں نے غیر ملکوں میں اس کا جائزہ لیا تو میں نے دیکھا کہ وہاں ہر سوسائٹی خواہ وہ غریب