خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 247 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 247

خطبات طاہر جلد اول 247 خطبه جمعه ۲۹/اکتوبر ۱۹۸۲ء مختلف قسم کی صنعتوں کا جاری کرنا ، ان کی دیکھ بھال، یتامی کی دیکھ بھال، یہ ساری چیز میں داخل ہیں۔پس امور عامہ اسکی نگرانی کریگی۔اور ایک مرکزی کمیٹی بن جائیگی یا یوں کہنا چاہیئے کہ فی الحال ہم ایک مرکزی کمیٹی بنا دینگے جس میں نظارت امور عامہ عملی حصہ کے طور پر ذمہ دار ہو گی۔یعنی وہ ان اعلیٰ اقدار کی تنفیذ کی ذمہ دار ہو جائے گی کیونکہ ان کو تنفیذ کی تو بہر حال عادت پڑی ہوئی ہے،اس لیے اس نیک کام کی تنفیذ میں بھی وہ انشاء اللہ تعالی نمایاں کردار ادا کریں گے۔وہ بھی ان کا نیک کام ہے اس میں مذاق کا رنگ نہیں۔مگر پھر بھی نیک کاموں میں سے ایک چھوٹے سے نیک کام کو انہوں نے پکڑا ہوا ہے اور بڑے بڑے نیک کام بھول گئے ہیں۔تو بہر حال اس نیک کام کی تنفیذ کا زیادہ تر تعلق امور عامہ کے محکمہ سے ہوگا۔لیکن ایک رہنما کمیٹی بن جائے گی جس میں امور عامہ کے نمائندے بھی ہوں گے اور بعض دوسرے بھی۔اور ساری جماعت سے آراء طلب کر کے پھر ان کو انشاء اللہ ایک عملی صورت میں جاری کریں گے۔اگر چہ وقت اب زیادہ ہو رہا ہے لیکن گھروں کے سلسلہ میں ایک چھوٹی سی بات میں بہر حال کرنا چاہتا ہوں۔ویسے تو سارے گھر جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا کئے ہیں خدا تعالیٰ کے گھر ہیں لیکن اللہ تعالیٰ بعض دفعہ یہ بھی مطالبے کرتا ہے اور یاد کرواتا ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی کرواتا۔جب مومن کے گھر میں کوئی مہمان آتا ہے اور وہ اپنے منہ ملاحظہ کی بجائے خدا کی خاطر اس کو جگہ دیتا ہے تو اس وقت وہ ثابت کرتا ہے کہ ہاں میرا گھر خدا کا گھر ہے۔تو یہاں آکر وہ دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ہماری ہر چیز پھر خدا کی ہو جاتی ہے۔امتحان کے بعض ایسے ہی دن آنے والے ہیں یعنی جلسہ سالانہ۔اس موقع پر آکر حقیقت میں ربوہ کے سارے گھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے گھر بن جاتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سارے گھر اللہ کے گھر ہو جاتے ہیں۔اس لیے خوب دل کھول کر اپنے گھر نظام جلسہ کو پیش کریں اور اس موقع سے فائدہ اٹھا کر یہ ظاہر کریں کہ مجبورا تو ہم نے مالک یوم الدین کے حضور پہنچنا ہی ہے اس سے تو ہمیں کوئی مفر نہیں، لازما جاتا ہے۔اگر اس دنیا میں بھی خدا کو طو عاملِكِ يَوْمِ الدِین تسلیم کرلیں گے تو قیامت کے دن اس کی مالکیت سے زیادہ حصہ پائیں گے اور زیادہ رحم کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔