خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 230 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 230

خطبات طاہر جلد اول 230 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء باہر گئے ہیں انہوں نے بغور قریب سے اس سوسائٹی کا مطالعہ کر کے وہی نتیجہ اخذ کیا ہے جو قرآن کریم ان آیات میں پیش فرما رہا ہے۔اور جہاں اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے دعائیں کریں وہاں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں اور بچوں کے لیے بھی دعائیں کریں جو غیر ملکوں میں بس رہے ہیں۔کئی قسم کے خطرات ان کو درپیش ہیں اور ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ ہم ان سب کو واپس آنے کی بھی اجازت نہیں دے سکتے۔ان سے میں کہتا ہوں کہ اگر تم نے وہاں اسلام کا جھنڈا نہ گا ڑا، اگر تم نے وہاں مضبوط قدموں کے ساتھ پیش قدمی نہ کی اور مغلوبیت کے خوف سے بھاگ آئے تو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا، کون آئے گا جو اس دنیا کو پیغام دے گا؟ اس لیے زخم بھی لگتے ہیں اس راہ میں۔ان زخموں کو اس وجہ سے قبول کرو کہ آخر تم نے دنیا پر فتح یاب ہونا ہے۔زیادہ دعائیں کرو، زیادہ توجہ کرو، اولاد کی تربیت کی زیادہ کوشش کرو۔کیونکہ اگر ہم نے یہ نہ کیا اور مغرب سے ڈر کے مارے ہم بھاگ آئے تو پھر ان کو بدلے گا کون؟ پھر تو مجھے کوئی ایسی قوم نظر نہیں آتی جوان کی ہلاکت کی تقدیر کو بدل سکے۔پس جہاں اپنی حفاظت کریں ، ان لذتوں میں اپنے آپ کو ضائع نہ کریں، اپنے وقار کو قائم رکھیں اعلیٰ مقاصد کی حفاظت کریں، اپنی ذات میں وہ عظمت کر دار حاصل کریں جو سب سے زیادہ انسان کو لذت پہنچاتی ہے اور تسکین بخشتی ہے، وہاں اپنے ان بھائیوں اور بہنوں کے لیے بھی دعائیں کریں جو غیر قوموں میں آج اسلام کے سفیر بنے ہوئے ہیں۔خدا کرے ہر میدان میں ان کو فتح نصیب ہو اور ایسی فوجوں میں تبدیل نہ ہو جائیں جو فتح کرنے جاتی ہیں لیکن اُن کے سارے سپاہی و ہیں کٹ مرتے ہیں اور کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔کچھ زخم تو لگیں گے اس راہ میں۔جہاد میں لگتے ہی ہیں۔لیکن بالآخر فتح ہمارے مقدر میں لکھی جانی چاہئے۔غیر کے مقدر میں نہیں لکھی جانی چاہئے۔اس کے لیے بہت دعاؤں کی ضرورت ہے اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے اور حضورا کرم ہے کے دین کا جھنڈا ہم اس مضبوطی سے مغربی اقوام میں گاڑ دیں کہ پھر دنیا کی کوئی طاقت اسے وہاں سے اکھاڑ نہ سکے۔آمین۔(روز نامه الفضل ربوه ۱۴/ نومبر ۱۹۸۲ء)