خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 229 of 515

خطبات طاہر (جلد 1۔ 1982ء) — Page 229

خطبات طاہر جلد اول 229 خطبه جمعه ۲۲/اکتوبر ۱۹۸۲ء یہ ملک نہیں چاہئے۔نہ ہمیں یہاں کی مال و دولت چاہئے ، نہ یہاں کی تعلیم چاہئے ، نہ ہمیں یہاں کی بڑائیاں چاہئیں۔پاکستان میں جا کر غریبانہ گزارا کر لیں گے ، مگر ان چیزوں میں پڑ کر ہم ہلاک نہیں ہونا چاہتے۔ایسی عورت ایک نہیں دو تین نہیں تھیں۔بہت ساری ایسی مائیں مجھے ملیں جنہوں نے یہی درخواست کی کہ ہمیں اجازت دیں کہ ہم اس وطن کو چھوڑ کر نکل جائیں۔بہت سے ایسے نو جوان ملے جنہوں نے کہا کہ بظاہر ہم یہاں بہت خوش ہیں، ہمیں کوئی تکلیف نہیں ، Job بھی ہے۔لیکن دل اچاٹ ہو گیا ہے بری طرح۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے سامنے ان چیزوں کی کوئی بھی حیثیت نہیں ہے۔آج ہمیں کوئی نقصان نہیں ہے، لیکن ہمیں پتہ ہے کہ کل ہمارے بچے جب بڑے ہوں گے تو وہ تباہ ہو جائیں گے۔اس لیے ہمیں اجازت دیں کہ ہم واپس آجائیں۔میرا دل حیران بھی ہوتا تھا اس نظارے سے اور خوش بھی ہوتا تھا کہ خدا کے ایسے مومن بندے، باوقار بندے، آزاد بندے جماعت احمدیہ کے افراد کی حیثیت سے ، یورپ میں بس رہے ہیں جن پر اس سوسائٹی کا ادنی سا بھی اثر نہیں ہے۔ایک ماں روتی ہوئی آئی اور مجھے کہا کہ میرے بعض بچے دین میں کم دلچسپی لے رہے ہیں اور میں سوچ رہی ہوں کہ میری زندگی کی ساری کمائی ضائع ہوگئی۔آخر میں نے یہاں آکر محنت کی تھی ، ان بچوں کو بنایا تھا۔ان کو اس لیے بنایا تھا کہ یہ کچھ حاصل کر جائیں۔مگر دنیا حاصل کر لیں اور دین کھو جائیں ، یہ تو میرا مقصد نہیں تھا۔مجھے تو یوں لگتا ہے کہ میں ایک ویرانے میں پہنچ گئی ہوں۔ساری زندگی کی کمائی آخر پر حسرت کے سوا کچھ نہیں رہی۔فَتَراهُ مُصْفَرَّاثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا کا کیسا اچھا نظارہ انہوں نے کھینچا۔لیکن ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُس سوکھی کھیتی کو پھر ہرا بھرا کر دے۔چنانچہ اس کے کفارے کے طور پر انہوں نے اپنے ہاتھ کا سارا زیورا تار کے دین کے رستے میں پیش کر دیا کہ اگر میری گریہ وزاری قبول نہیں ہوتی تو خدا اس بات پر رحم کرے اور دیکھ لے کہ مجھے دنیا کے مال سے کوئی محبت نہیں مجھے میری اولا د چاہئے۔اس لیے میری دعا ہے کہ اللہ مجھے میری اولا دوا پس کر دے۔میں نے یہ مضمون اس لیے چھیڑا ہے کہ آپ بھی حقیقت میں آزاد مردوں اور آزاد عورتوں کی طرح زندگی گزاریں یعنی دنیا کی لذتوں سے آزاد اور صرف اللہ کی طرف جھکنے والے۔کیونکہ جولوگ